کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبیداللہ بن علی بن ابی رافع کی اپنے دادا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا فَايِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «طَبَخْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے بکری کا پیٹ پکایا، آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا، پھر عشاء کی نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 962
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 324، حدیث 966
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: ذَبَحْتُ شَاةً بِوَتَدٍ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي ذَبَحْتُ شَاةً بِوَتَدٍ، قَالَ: «كُلُوهَا»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے ایک بکری میخ سے ذبح کی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے میخ سے بکری ذبح کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کھاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 963
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 324، حدیث 967
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبَادِلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، وَأَنَا أَمْشِي خَلْفَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا هُدِيتَ لَا هُدِيتَ» ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لِي؟ قَالَ: «لَيْسَ إِيَّاكَ أُرِيدُ، إِنَّمَا أُرِيدُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ، يُسْأَلُ عَنِّي، فَيَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَعْرِفُنِي» فَإِذَا هُوَ قَبْرٌ قَدْ رُشَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ حِينَ دُفِنَ صَاحِبُهُ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ بقیع الغرقد میں چل رہے تھے، اور میں ان کے پیچھے چل رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”لا ہدیت، لا ہدیت۔“ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کیا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں، بلکہ میری مراد اس قبر والے سے ہے، جس سے میرے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مجھے نہیں پہچانتا۔“ تو وہ ایسی قبر نکلی جس پر اس کے صاحب کی تدفین کے وقت پانی چھڑکا گیا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 964
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 325، حدیث 968
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ فَائِدٍ، مَوْلَى عَبَادِلَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُصْلِيَ لَهُ شَاةً، فَصَلَيْتُهَا لَهُ، فَقَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ، ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَمْ لَهَا مِنْ ذِرَاعٍ؟ فَقَالَ: «أَمَا لَوْ سَكَتَّ لَوَجَدْتَهَا مَا دَعَوْتُكَ»
ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے ایک بکری بھوننے کا حکم دیا، میں نے اسے بھونا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے دستی حصہ دیا، پھر فرمایا: ”مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے دستی حصہ دیا، پھر فرمایا: ”مجھے دستی حصہ دو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کے کتنے دستی حصے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم خاموش رہتے تو جتنا مانگتا رہتا تمہیں ملتا رہتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 965
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 325، حدیث 969