حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبَادِلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، وَأَنَا أَمْشِي خَلْفَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا هُدِيتَ لَا هُدِيتَ» ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لِي؟ قَالَ: «لَيْسَ إِيَّاكَ أُرِيدُ، إِنَّمَا أُرِيدُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ، يُسْأَلُ عَنِّي، فَيَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَعْرِفُنِي» فَإِذَا هُوَ قَبْرٌ قَدْ رُشَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ حِينَ دُفِنَ صَاحِبُهُ
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ بقیع الغرقد میں چل رہے تھے، اور میں ان کے پیچھے چل رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”لا ہدیت، لا ہدیت۔“ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کیا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں، بلکہ میری مراد اس قبر والے سے ہے، جس سے میرے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مجھے نہیں پہچانتا۔“ تو وہ ایسی قبر نکلی جس پر اس کے صاحب کی تدفین کے وقت پانی چھڑکا گیا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 964
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 325، حدیث 968