حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ الْمَازِنِيُّ السَّبَئِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ كَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ حِينَ وَفِدَ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: «يَا أَخَا سَبَأٍ، لَا بُدَّ مِنْ صَدَقَةٍ» قَالَ: إِنَّمَا زَرَعْنَا الْقُطْنَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ تَبَدَّدَتْ سَبَأٌ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ بِمَأْرِبَ، فَصَالَحَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ عَلَى سَبْعِينَ حُلَّةً مِنْ أَوْفَى قِيمَةِ بَزِّ الْمَعَافِرِ كُلَّ سَنَةٍ عَمَّنْ بَقِيَ مِنْ سَبَأٍ بِمَأْرِبَ، فَلَمْ يَزَالُوا يُؤَدُّونَهَا حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سعید بن ابیض بن حمال بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے، جب وہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بن کر آئے تو، آپ ﷺ سے صدقہ کے بارے میں بات کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سبا کے بھائی! صدقہ ضرور دینا ہو گا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے تو صرف کپاس بوئی ہے، سبا کے لوگ منتشر ہو چکے ہیں اور مارب میں ان میں سے تھوڑے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت کر لی کہ مارب میں باقی رہ جانے والے اہلِ سبا کی طرف سے ہر سال معافری کپڑے کی بہترین قیمت کے ستر جوڑے ادا کیے جائیں گے، اور وہ اسے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمِّهِ ثَابِتِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ عَلَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِخْوَةٍ مِنْ كِنْدَةَ كَانُوا عَبِيدًا لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَفَدَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَحَدُهُمْ مَعَهُ يَخْدُمُهُ، فَكَلَّمَ الْخَادِمُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ، فَدَعَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فَطَلَبَ مِنْهُ أَنْ يَعْتِقَ رَقَبَةَ الَّذِي يَخْدُمُهُ، وَيَشْتَرِيَ مِنْهُ أَخَوَيْنِ اللَّذَيْنِ بِمَأْرِبَ بِسِتَّةٍ مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ، فَأَعْتَقَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ وَأَخَذَ مَكَانَ أَخَوَيْهِ سِتَّةً مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ، قَالَ: وَكَانَتْ وِفَادَةُ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الْعُمَّالَ انْتَقَضُوا عَلَيْهِمْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا «صَالَحَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُلَلِ السَّبْعِينَ» فَأَقَرَّ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مَا وَضَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ انْتُقِضَ ذَلِكَ وَصَارَ عَلَى الصَّدَقَةِ
ترجمہ
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس حال میں اسلام قبول کیا کہ کندہ کے تین بھائی، جو جاہلیت میں ان کے غلام تھے، ان کی ملکیت میں تھے۔ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس وفد بن کر گئے اور ان میں سے ایک ان کے ساتھ تھا جو ان کی خدمت کرتا تھا۔ اس خادم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ان کے دورِ خلافت میں بات کی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے مطالبہ کیا کہ جو غلام ان کی خدمت کرتا ہے اسے آزاد کر دیں، اور اس کے جو دو بھائی مأرب میں ہیں انہیں قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ عجمی غلاموں کے بدلے ان سے خرید لیں۔ سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا: جو ان کے ساتھ تھا اسے آزاد کر دیا اور اس کے دونوں بھائیوں کی جگہ قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ عجمی غلام لے لیے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس وفد بن کر جانا اس لیے ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کارندے اس معاہدے سے پھر گئے جو سیدنا ابیض بن حمال نے رسول اللہ ﷺ سے ستر جوڑوں پر کیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی طرح برقرار رکھا جیسا رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا تھا، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو یہ معاہدہ ختم ہو گیا اور معاملہ عام صدقے پر چلا گیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ الْمِلْحَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: شَذَّا بِمَأْرِبَ، فَقَطَعَهُ لَهُ، ثُمَّ إِنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ بِأَرْضٍ، فَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ، وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ، قَالَ: فَاسْتَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِي قَطِيعَتِهِ، فَقَالَ أَبْيَضُ: قَدْ أَقَلْتُهُ مِنْهُ عَلَى أَنْ يَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ، فَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ» قَالَ: فَقَطَعَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَعُشْبًا بِالْجَوْفِ - جَوْفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ - وَأَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حِمَى الْأَرَاكِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ» فَقَالَ: أَرَاكَةٌ فِي حِظَارِي، فَقَالَ: «لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ» قَالَ فَرَجٌ: «يَعْنِي أَبْيَضَ فِي حِظَارِي الْأَرْضِ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے وہ نمک کی کان مانگی جسے ”شذا“ کہا جاتا تھا اور جو مأرب میں تھی، تو آپ ﷺ نے وہ انہیں دے دی۔ پھر سیدنا اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں جاہلیت میں اس نمک کی جگہ آیا تھا اور وہ ایک ایسی زمین میں ہے، جو بھی وہاں آتا وہ (نمک) لے لیتا، وہ تو بہتے پانی کی طرح ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ جاگیر واپس کرنے کی درخواست کی، تو ابیض نے کہا: میں نے یہ اس شرط پر چھوڑ دی کہ آپ اسے میری طرف سے صدقہ بنا دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری طرف سے صدقہ ہے، اور یہ بہتے پانی کی طرح ہے، جو بھی اس تک پہنچے وہ اس میں سے لے لے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی کریم ﷺ نے اسے چھوڑنے کے بدلے میں جوف - جوفِ مراد - میں زمین اور چراگاہ عطا فرمائی، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پیلو کے درختوں کی حفاظت کے بارے میں پوچھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیلو کے درختوں کا کوئی محفوظ علاقہ نہیں ہوتا۔“ انہوں نے کہا: میری باڑ میں ایک پیلو کا درخت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پیلو کا کوئی محفوظ علاقہ نہیں ہوتا۔“ فرج کہتے ہیں: ”ابیض کی ’میری باڑ‘ سے مراد وہ زمین تھی جس میں کھیتی تھی اور اس کے گرد باڑ لگی ہوئی تھی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو التَّنُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ شُمَيْرٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَقْطِعُهُ الْمِلْحَ، فَأَقْطَعَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ فَأَرْجَعَهُ مِنْهُ، وَسَأَلْتُهُ مَا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ؟ قَالَ: «مَا لَمْ تَبْلُغْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ»
ترجمہ
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس وفد کی صورت میں آئے اور آپ ﷺ سے نمک کی زمین مانگی، تو آپ ﷺ نے وہ انہیں دے دی، تو ایک شخص نے آپ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے انہیں کیا دیا ہے؟ یہ تو بہتا ہوا پانی ہے! چنانچہ آپ ﷺ نے وہ واپس لے لی۔ راوی کہتے ہیں: اور میں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ پیلو کا کتنا حصہ محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچیں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ شُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمَدَانِ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْطَعَهُ الْمِلْحَ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ، إِنَّمَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ: فَرَجَعَ فِيهِ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ؟ قَالَ: «مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ»
ترجمہ
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس وفد بن کر آئے، تو آپ ﷺ نے انہیں نمک (کی کان) بطور جاگیر عطا فرما دی۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے انہیں کیا دیا ہے؟ آپ نے تو انہیں محض بہتا ہوا پانی دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے وہ واپس لے لی۔ راوی کہتے ہیں: اور میں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ پیلو کا کتنا حصہ محفوظ رکھا جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ الَّذِي بِمَأْرِبَ، فَأَقْطَعَهُ لَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: تَدْرِي يَا رَسُولَ اللهِ مَا قَطَعْتَ لَهُ؟ قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ: فَرَّجَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، قَالَ: وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ؟ قَالَ: «يُحْمَى مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ»
ترجمہ
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بن کر آئے اور آپ ﷺ سے مأرب والی نمک کی کان بطور جاگیر مانگی، تو آپ ﷺ نے وہ انہیں دے دی۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے انہیں کیا دیا ہے؟ آپ نے تو انہیں بہتا ہوا پانی دے دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے وہ مجھ سے واپس لے لی۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ پیلو کا کتنا حصہ محفوظ رکھا جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہاں تک محفوظ رکھا جاتا ہے جہاں تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچیں۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَدَنِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ «أَنَّهُ كَانَ بِوَجْهِهِ حَزَازَةٌ - يَعْنِي الْقُوبَاءَ - فَنَقَمْتُ أَنْفَهُ» فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ " فَلَمْ يُمَسَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَفِيهِ أَثَرٌ
ترجمہ
سعید بن ابیض بن حمال بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (سیدنا ابیض رضی اللہ عنہ) کے چہرے پر ایک جلدی بیماری تھی - یعنی داد - جس نے ان کی ناک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا، تو اس دن شام ہونے سے پہلے ہی اس کا کوئی نشان باقی نہ رہا۔