المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبيض بن حمال المازني السبئي باب: سیدنا ابیض بن حمال مازنی سبئی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو التَّنُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ شُمَيْرٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَقْطِعُهُ الْمِلْحَ، فَأَقْطَعَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ فَأَرْجَعَهُ مِنْهُ، وَسَأَلْتُهُ مَا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ؟ قَالَ: «مَا لَمْ تَبْلُغْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ»ترجمہ
سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس وفد کی صورت میں آئے اور آپ ﷺ سے نمک کی زمین مانگی، تو آپ ﷺ نے وہ انہیں دے دی، تو ایک شخص نے آپ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے انہیں کیا دیا ہے؟ یہ تو بہتا ہوا پانی ہے! چنانچہ آپ ﷺ نے وہ واپس لے لی۔ راوی کہتے ہیں: اور میں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ پیلو کا کتنا حصہ محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچیں۔“