المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبيض بن حمال المازني السبئي باب: سیدنا ابیض بن حمال مازنی سبئی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ الْمَازِنِيُّ السَّبَئِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ كَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ حِينَ وَفِدَ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: «يَا أَخَا سَبَأٍ، لَا بُدَّ مِنْ صَدَقَةٍ» قَالَ: إِنَّمَا زَرَعْنَا الْقُطْنَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ تَبَدَّدَتْ سَبَأٌ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ بِمَأْرِبَ، فَصَالَحَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ عَلَى سَبْعِينَ حُلَّةً مِنْ أَوْفَى قِيمَةِ بَزِّ الْمَعَافِرِ كُلَّ سَنَةٍ عَمَّنْ بَقِيَ مِنْ سَبَأٍ بِمَأْرِبَ، فَلَمْ يَزَالُوا يُؤَدُّونَهَا حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسعید بن ابیض بن حمال بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے، جب وہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بن کر آئے تو، آپ ﷺ سے صدقہ کے بارے میں بات کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سبا کے بھائی! صدقہ ضرور دینا ہو گا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے تو صرف کپاس بوئی ہے، سبا کے لوگ منتشر ہو چکے ہیں اور مارب میں ان میں سے تھوڑے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مصالحت کر لی کہ مارب میں باقی رہ جانے والے اہلِ سبا کی طرف سے ہر سال معافری کپڑے کی بہترین قیمت کے ستر جوڑے ادا کیے جائیں گے، اور وہ اسے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی۔