المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبيض بن حمال المازني السبئي باب: سیدنا ابیض بن حمال مازنی سبئی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ الْمِلْحَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: شَذَّا بِمَأْرِبَ، فَقَطَعَهُ لَهُ، ثُمَّ إِنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ بِأَرْضٍ، فَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ، وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ، قَالَ: فَاسْتَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِي قَطِيعَتِهِ، فَقَالَ أَبْيَضُ: قَدْ أَقَلْتُهُ مِنْهُ عَلَى أَنْ يَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ، فَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ» قَالَ: فَقَطَعَ لَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَعُشْبًا بِالْجَوْفِ - جَوْفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ - وَأَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حِمَى الْأَرَاكِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ» فَقَالَ: أَرَاكَةٌ فِي حِظَارِي، فَقَالَ: «لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ» قَالَ فَرَجٌ: «يَعْنِي أَبْيَضَ فِي حِظَارِي الْأَرْضِ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهِ»سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے وہ نمک کی کان مانگی جسے ”شذا“ کہا جاتا تھا اور جو مأرب میں تھی، تو آپ ﷺ نے وہ انہیں دے دی۔ پھر سیدنا اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں جاہلیت میں اس نمک کی جگہ آیا تھا اور وہ ایک ایسی زمین میں ہے، جو بھی وہاں آتا وہ (نمک) لے لیتا، وہ تو بہتے پانی کی طرح ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے ان کی یہ جاگیر واپس کرنے کی درخواست کی، تو ابیض نے کہا: میں نے یہ اس شرط پر چھوڑ دی کہ آپ اسے میری طرف سے صدقہ بنا دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری طرف سے صدقہ ہے، اور یہ بہتے پانی کی طرح ہے، جو بھی اس تک پہنچے وہ اس میں سے لے لے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی کریم ﷺ نے اسے چھوڑنے کے بدلے میں جوف - جوفِ مراد - میں زمین اور چراگاہ عطا فرمائی، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پیلو کے درختوں کی حفاظت کے بارے میں پوچھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیلو کے درختوں کا کوئی محفوظ علاقہ نہیں ہوتا۔“ انہوں نے کہا: میری باڑ میں ایک پیلو کا درخت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پیلو کا کوئی محفوظ علاقہ نہیں ہوتا۔“ فرج کہتے ہیں: ”ابیض کی ’میری باڑ‘ سے مراد وہ زمین تھی جس میں کھیتی تھی اور اس کے گرد باڑ لگی ہوئی تھی۔“