المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبيض بن حمال المازني السبئي باب: سیدنا ابیض بن حمال مازنی سبئی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمِّهِ ثَابِتِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ عَلَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِخْوَةٍ مِنْ كِنْدَةَ كَانُوا عَبِيدًا لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَفَدَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَحَدُهُمْ مَعَهُ يَخْدُمُهُ، فَكَلَّمَ الْخَادِمُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ، فَدَعَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فَطَلَبَ مِنْهُ أَنْ يَعْتِقَ رَقَبَةَ الَّذِي يَخْدُمُهُ، وَيَشْتَرِيَ مِنْهُ أَخَوَيْنِ اللَّذَيْنِ بِمَأْرِبَ بِسِتَّةٍ مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ، فَأَعْتَقَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ وَأَخَذَ مَكَانَ أَخَوَيْهِ سِتَّةً مِنْ عُلُوجِ سَبْيِ الْقَادِسِيَّةِ، قَالَ: وَكَانَتْ وِفَادَةُ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ الْعُمَّالَ انْتَقَضُوا عَلَيْهِمْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا «صَالَحَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُلَلِ السَّبْعِينَ» فَأَقَرَّ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى مَا وَضَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ انْتُقِضَ ذَلِكَ وَصَارَ عَلَى الصَّدَقَةِسیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس حال میں اسلام قبول کیا کہ کندہ کے تین بھائی، جو جاہلیت میں ان کے غلام تھے، ان کی ملکیت میں تھے۔ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس وفد بن کر گئے اور ان میں سے ایک ان کے ساتھ تھا جو ان کی خدمت کرتا تھا۔ اس خادم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ان کے دورِ خلافت میں بات کی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے مطالبہ کیا کہ جو غلام ان کی خدمت کرتا ہے اسے آزاد کر دیں، اور اس کے جو دو بھائی مأرب میں ہیں انہیں قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ عجمی غلاموں کے بدلے ان سے خرید لیں۔ سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا: جو ان کے ساتھ تھا اسے آزاد کر دیا اور اس کے دونوں بھائیوں کی جگہ قادسیہ کے قیدیوں میں سے چھ عجمی غلام لے لیے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس وفد بن کر جانا اس لیے ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کارندے اس معاہدے سے پھر گئے جو سیدنا ابیض بن حمال نے رسول اللہ ﷺ سے ستر جوڑوں پر کیا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اسی طرح برقرار رکھا جیسا رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا تھا، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو یہ معاہدہ ختم ہو گیا اور معاملہ عام صدقے پر چلا گیا۔