کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: اس حکم کے منسوخ ہونے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بیع صرف سے رجوع کرنے اور اس سے منع کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ مَعَ أَبِي الْمِنْهَالِ يَقُولُ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي بِالْكُوفَةِ دَرَاهِمَ بِدَرَاهِمَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ، فَقُلْتُ: مَا أَرَى هَذَا يَصْلُحُ. قَالَ: لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَتِجَارَتُنَا هَكَذَا، فَقَالَ: «مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا كَانَ نَسِيئًا فَلَا خَيْرَ فِيهِ» وَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي فَأَتَيْتُهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: صَدَقَ الْبَرَاءُ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: «هَذَا مَنْسُوخٌ لَا يُأْخَذُ بِهَذَا»
ترجمہ
…یہ (لین دین) درست ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ (چیز) بازار میں بیچی تو کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا، پھر میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ہماری تجارت اسی طرح ہوتی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہاتھوں ہاتھ ہو اس میں کوئی حرج نہیں، اور جو ادھار ہو اس میں کوئی خیر نہیں۔“ پھر میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ بڑے تاجر تھے، تو میں نے یہ بات ان سے ذکر کی، انہوں نے فرمایا: براء نے سچ کہا۔
حمیدی کہتے ہیں: ”یہ (حکم) منسوخ ہے، اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔“
حمیدی کہتے ہیں: ”یہ (حکم) منسوخ ہے، اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُغِيرَةَ يَعْنِي ابْنَ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَشَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ فَقَدْ أَرْبَى» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَتُوبُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِمَّا كُنْتُ أُفْتِي بِهِ» ثُمَّ رَجَعَ
ترجمہ
عبدالرحمن بن ابی نعم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں گواہی دی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر ہے، جس نے زیادہ لیا اس نے سود کھایا۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں اللہ عزوجل کی طرف اس فتوے سے توبہ کرتا ہوں جو میں دیتا رہا ہوں“، پھر وہ (اپنے فتوے سے) رجوع کر گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي ثُبَيْتٍ الرَّاسِبِيِّ، وَغَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، عَنِ الدِّرْهَمِ بِالدِّرْهَمَيْنِ يَدًا بِيَدٍ، قَالَ: «لَا أَرَى بِمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ بَأْسًا» ثُمَّ قَدِمْتُ مَكَّةَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَقَدْ «نَهَى عَنْهُ»
ترجمہ
ابوالجوزاء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف (سکوں کی تبدیلی) کے بارے میں پوچھا، ایک درہم کو دو درہموں کے بدلے ہاتھوں ہاتھ (بیچنے کے بارے میں)، تو انہوں نے فرمایا: ”جو کچھ ہاتھوں ہاتھ ہو اس میں مجھے کوئی حرج نظر نہیں آتا۔“ پھر میں اگلے سال مکہ آیا تو وہ اس سے منع کر چکے تھے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنَ الصَّرْفِ، إِنَّمَا هَذَا مِنْ رَأْيِي وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمً»
ترجمہ
ابوالشعثاء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا: ”اے اللہ! میں تیری طرف صرف (کے فتوے) سے توبہ کرتا ہوں، یہ تو صرف میری اپنی رائے تھی، جبکہ یہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں جو اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثُمَّ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو غِفَارٍ الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنَ الصَّرْفِ»
ترجمہ
ابوالشعثاء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا: ”میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور صرف (کے فتوے) سے اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللهُ: تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ. قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ» ، وَقَالَ: «إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرِّبَا؟» قُلْتُ لِعَطِيَّةَ: مَا الرِّبَا؟ قَالَ: «الزِّيَادَةُ وَالْفَضْلُ بَيْنَهُمَا»
ترجمہ
عطیہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اللہ عزوجل کی طرف توبہ کرو۔ تو انہوں نے فرمایا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ ابوسعید نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے (کمی بیشی کے ساتھ) بیچنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں سود کا اندیشہ ہے“؟ میں نے عطیہ سے پوچھا: سود کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”دونوں کے درمیان زیادتی اور فرق۔“
وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ الصَّيْرَفِيُّ، قَالَا: ثنا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو غِيَاثٍ الْعَتَكِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، جَاءَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ وَجِئْتُ مَعَهُ فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِالصَّرْفِ مَا كَانَ مِنْهُ يَدًا بِيَدٍ، إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ، فَطَارَتْ كَلِمَةٌ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْمَوْسِمُ دَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَكَلْتَ الرِّبَا وَأَطْعَمْتَهُ؟ قَالَ: أَوَفَعَلْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أرْبَا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أرْبَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أرْبَا» حَتَّى إِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ جَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَجِئْتُ مَعَهُ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَكَلَّمْتُ عَامَ أَوَّلٍ بِكَلِمَةٍ مِنْ رَأْيِي، وَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللهَ مِنْهُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أرْبَا» وَأَعَادَ عَلَيْهِمْ هَذِهِ الْأَنْوَاعَ السِّتَّةَ
ترجمہ
…یہاں تک کہ جب حج کا موسم ختم ہوا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے پاس آئے اور کہا: اے ابن عباس! کیا تم نے سود کھایا اور کھلایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا میں نے ایسا کیا ہے؟ ابوسعید نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، تول کے مطابق، برابر برابر، اس کا کچا اور پکا سونا (برابر ہو)، جس نے زیادہ لیا یا زیادہ مانگا اس نے سود کھایا، اور چاندی چاندی کے بدلے، تول کے مطابق، برابر برابر، اس کا کچا اور پکا (برابر ہو)، جس نے زیادہ لیا یا زیادہ مانگا اس نے سود کھایا، اور جو جو کے بدلے، اور کھجور کھجور کے بدلے، اور نمک نمک کے بدلے، برابر برابر، جس نے زیادہ لیا یا زیادہ مانگا اس نے سود کھایا۔“ یہاں تک کہ جب اگلا سال آیا تو ابن عباس آئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اے لوگو! میں نے پچھلے سال ایک بات اپنی رائے سے کہی تھی، اور میں اس سے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، تول کے مطابق، برابر برابر، کچا اور پکا (برابر ہو)، جس نے زیادہ لیا اور زیادہ مانگا اس نے سود کھایا“، اور انہوں نے یہ چھ اقسام (کا حکم) لوگوں کو دہرایا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ظَهَرَ الزِّنَا وَالرِّبَا فِي قَرْيَةٍ، فَقَدْ أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس بستی میں زنا اور سود ظاہر ہو جائے، اس بستی والوں نے اپنے آپ پر اللہ کی کتاب کا عذاب حلال کر لیا۔“