❮
❯
حدیث نمبر: 450
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ مَعَ أَبِي الْمِنْهَالِ يَقُولُ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي بِالْكُوفَةِ دَرَاهِمَ بِدَرَاهِمَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ، فَقُلْتُ: مَا أَرَى هَذَا يَصْلُحُ. قَالَ: لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَتِجَارَتُنَا هَكَذَا، فَقَالَ: «مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا كَانَ نَسِيئًا فَلَا خَيْرَ فِيهِ» وَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي فَأَتَيْتُهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: صَدَقَ الْبَرَاءُ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: «هَذَا مَنْسُوخٌ لَا يُأْخَذُ بِهَذَا»
ترجمہ

عمرو بن دینار کہتے ہیں: میں ابومنہال کے ساتھ تھا، وہ کہہ رہے تھے: کوفہ میں میرے ایک شریک نے درہم، درہموں کے بدلے بیچے جن کے درمیان کمی بیشی تھی، تو میں نے کہا: میرا خیال ہے یہ درست نہیں۔ اس (شریک) نے کہا: میں نے تو یہ بازار میں بیچے ہیں اور کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا، تو میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ہماری تجارت اسی طرح ہوتی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ہاتھوں ہاتھ ہو اس میں کوئی حرج نہیں، اور جو ادھار ہو اس میں کوئی خیر نہیں۔“ پھر میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ بڑے تاجر تھے، تو میں نے یہ بات ان سے ذکر کی، انہوں نے فرمایا: براء نے سچ کہا۔
حمیدی کہتے ہیں: ”یہ (حکم) منسوخ ہے، اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 450
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 176، حدیث 453