حدیث نمبر: 455
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللهُ: تُبْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ. قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ» ، وَقَالَ: «إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرِّبَا؟» قُلْتُ لِعَطِيَّةَ: مَا الرِّبَا؟ قَالَ: «الزِّيَادَةُ وَالْفَضْلُ بَيْنَهُمَا»
ترجمہ

عطیہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اللہ عزوجل کی طرف توبہ کرو۔ تو انہوں نے فرمایا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ ابوسعید نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے (کمی بیشی کے ساتھ) بیچنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں سود کا اندیشہ ہے“؟ میں نے عطیہ سے پوچھا: سود کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”دونوں کے درمیان زیادتی اور فرق۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 455
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 177، حدیث 458