المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب البيان في نسخ ذلك ورجوع ابن عباس عن الصرف، ونهيه عنه رضي الله عنه باب: اس حکم کے منسوخ ہونے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بیع صرف سے رجوع کرنے اور اس سے منع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 451
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُغِيرَةَ يَعْنِي ابْنَ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَشَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ فَقَدْ أَرْبَى» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَتُوبُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِمَّا كُنْتُ أُفْتِي بِهِ» ثُمَّ رَجَعَترجمہ
عبدالرحمن بن ابی نعم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں گواہی دی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر ہے، جس نے زیادہ لیا اس نے سود کھایا۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں اللہ عزوجل کی طرف اس فتوے سے توبہ کرتا ہوں جو میں دیتا رہا ہوں“، پھر وہ (اپنے فتوے سے) رجوع کر گئے۔