المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب البيان في نسخ ذلك ورجوع ابن عباس عن الصرف، ونهيه عنه رضي الله عنه باب: اس حکم کے منسوخ ہونے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بیع صرف سے رجوع کرنے اور اس سے منع کرنے کا بیان
وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ الصَّيْرَفِيُّ، قَالَا: ثنا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو غِيَاثٍ الْعَتَكِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيَّ، يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، جَاءَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ وَجِئْتُ مَعَهُ فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِالصَّرْفِ مَا كَانَ مِنْهُ يَدًا بِيَدٍ، إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ، فَطَارَتْ كَلِمَةٌ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْمَوْسِمُ دَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَكَلْتَ الرِّبَا وَأَطْعَمْتَهُ؟ قَالَ: أَوَفَعَلْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أرْبَا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أرْبَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أرْبَا» حَتَّى إِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ جَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَجِئْتُ مَعَهُ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَكَلَّمْتُ عَامَ أَوَّلٍ بِكَلِمَةٍ مِنْ رَأْيِي، وَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللهَ مِنْهُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أرْبَا» وَأَعَادَ عَلَيْهِمْ هَذِهِ الْأَنْوَاعَ السِّتَّةَ…یہاں تک کہ جب حج کا موسم ختم ہوا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے پاس آئے اور کہا: اے ابن عباس! کیا تم نے سود کھایا اور کھلایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا میں نے ایسا کیا ہے؟ ابوسعید نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، تول کے مطابق، برابر برابر، اس کا کچا اور پکا سونا (برابر ہو)، جس نے زیادہ لیا یا زیادہ مانگا اس نے سود کھایا، اور چاندی چاندی کے بدلے، تول کے مطابق، برابر برابر، اس کا کچا اور پکا (برابر ہو)، جس نے زیادہ لیا یا زیادہ مانگا اس نے سود کھایا، اور جو جو کے بدلے، اور کھجور کھجور کے بدلے، اور نمک نمک کے بدلے، برابر برابر، جس نے زیادہ لیا یا زیادہ مانگا اس نے سود کھایا۔“ یہاں تک کہ جب اگلا سال آیا تو ابن عباس آئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا، انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اے لوگو! میں نے پچھلے سال ایک بات اپنی رائے سے کہی تھی، اور میں اس سے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں، بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، تول کے مطابق، برابر برابر، کچا اور پکا (برابر ہو)، جس نے زیادہ لیا اور زیادہ مانگا اس نے سود کھایا“، اور انہوں نے یہ چھ اقسام (کا حکم) لوگوں کو دہرایا۔