کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنَ التَّوَاضُعِ لِلَّهِ الرِّضَا بِالدُّونِ مِنْ شَرَفِ الْمَجَالِسِ»
ترجمہ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ کے لیے تواضع میں سے یہ بھی ہے کہ مجلس میں بلند جگہ کی بجائے کم تر جگہ پر راضی ہو جانا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ يَقُولُ: «النَّاكِحُ فِي قَوْمِهِ كَالمُعْشِبِ فِي دَارِهِ»
ترجمہ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اپنی برادری میں نکاح کرنے والا ایسا ہے جیسے اپنے گھر میں گھاس اگانے والا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَعْدَهَا قَتْلٌ وَصَلْبٌ»
ترجمہ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”کبھی کوئی نبوت ایسی نہیں گزری جس کے بعد قتل اور سولی کا دور نہ آیا ہو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ»
ترجمہ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”عمرو بن العاص قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ، ثنا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا عَمْرُو إِنَّكَ لَذُو رَأْيٍ رَشِيدٍ فِي الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اے عمرو! بےشک تم اسلام میں دانشمندانہ رائے رکھنے والے ہو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، أَنَّهُ صَلَّى بِقَوْمٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: نَسِيتُ أَنْ أَسْتَأْمِرَكُمْ قَبْلَ أَنْ أَتَقَدَّمَكُمْ أَفَرِضِيتُمْ بِصَلَاتِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، وَمَنْ يَكْرَهُ ذَلِكَ يَا حَوَارِيَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ أُذُنَهُ»
ترجمہ
…اور اس بات کو اے رسول اللہ ﷺ کے حواری! کون ناپسند کرے گا؟ طلحہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص کسی قوم کی امامت کرے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں، تو اس کی نماز اس کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتی۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُولِيَ مَعْرُوفًا فَلْيَذْكُرْهُ فَمَنْ ذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ»
ترجمہ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے کوئی احسان کیا جائے وہ اسے یاد رکھے، جس نے اسے یاد رکھا اس نے شکر ادا کیا، اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ رِحْلَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطِيبُهُ إِلَيَّ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ: «ذَاكَ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ» فَأَتَانِي فَأَعْلَمَنِي فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ، فَعَادَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَتَانِي فَأَعْلَمَنِي، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَرَجَعَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: مَا بَعَثَهُ إِلَيَّ إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكَادُ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا فَعَلَهُ، فَقُلْتُ: لَأَنْ أَلِيَ بَشَرَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلِيَ رِحْلَتَهُ، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا، فَأَمَرَ أَنْ يُرْحَلَ لَهُ فَأَتَانِي، فَقَالَ: أَيُّ الرِّحْلَتَيْنِ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: الطَّائِفِيَّةُ فَرَحَّلَهَا لَهُ، ثُمَّ قَرَّبَهَا إِلَيْهِ، فَلَمَّا ثَارَتْ بِهِ انكبَّتْ، فَقَالَ: «مَنْ رَحَّلَ هَذَا؟» قَالُوا: فُلَانٌ. فَقَالَ: «رُدُّوهَا إِلَى طَلْحَةَ» فَرُدَّتْ إِلَيَّ. قَالَ طَلْحَةُ: وَاللهِ مَا غَشَشْتُ أَحَدًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَهُ لِكَيْ تَرْجِعَ إِلَيَّ رِحْلَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
…میرے والد نے مجھ سے، انہوں نے میرے دادا سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے، انہوں نے اپنے والد طلحہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی سواری کا کجاوہ اور آپ ﷺ کی خوشبو کا سامان میرے پاس ہوتا تھا۔ ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ سے ان دونوں میں سے ایک چیز مانگی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو طلحہ بن عبیداللہ کے پاس ہے۔“ وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا، تو میں نے اسے دینے سے انکار کر دیا۔ وہ دوبارہ نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ سے سوال کیا، تو آپ ﷺ نے اسے پھر وہی جواب دیا، وہ میرے پاس آیا اور مجھے بتایا، تو میں نے پھر انکار کر دیا۔ وہ پھر نبی کریم ﷺ کے پاس واپس گیا اور اسی طرح کہا، تو وہ میرے پاس واپس آیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: آپ ﷺ نے اسے میرے پاس اس کے سوا کسی اور وجہ سے نہیں بھیجا کہ آپ چاہتے ہیں کہ اس کی حاجت پوری ہو جائے، اور رسول اللہ ﷺ سے شاید ہی کوئی چیز مانگی جاتی اور آپ اسے نہ کرتے۔ تو میں نے اپنے دل میں کہا: رسول اللہ ﷺ کے جسم کی خدمت کرنا مجھے ان کے کجاوے کی خدمت کرنے سے زیادہ محبوب ہے، چنانچہ میں نے وہ اسے دے دیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے سفر کا ارادہ کیا تو حکم دیا کہ آپ کے لیے کجاوہ کسا جائے۔ وہ خادم میرے پاس آیا اور پوچھا: رسول اللہ ﷺ کو دونوں کجاووں میں سے کون زیادہ پسند تھا؟ میں نے کہا: طائفی کجاوہ۔ تو اس نے وہ کسا اور آپ ﷺ کے قریب کیا، جب آپ ﷺ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ الٹ گیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اسے کس نے کسا تھا؟“ لوگوں نے کہا: فلاں شخص نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے طلحہ کے حوالے کر دو۔“ چنانچہ وہ مجھے واپس مل گیا۔ طلحہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اسلام میں اس کے سوا کسی کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا، تاکہ رسول اللہ ﷺ کا کجاوہ مجھے واپس مل جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جَعَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى اسْتَقَلَّ، وَصَارَ عَلَى الصَّخْرَةِ، وَاسْتَتَرَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: «هَكَذَا» وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى وَرَاءِ ظَهْرِي: «هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ لَا يَرَاكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي هَوْلٍ إِلَّا أَنْقَذَكَ مِنْهُ»
ترجمہ
…موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب احد کا دن ہوا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی پیٹھ پر اٹھا لیا یہاں تک کہ آپ ﷺ چٹان پر چڑھ گئے اور مشرکین سے اوجھل ہو گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے ہی“ اور اپنے ہاتھ سے میری پیٹھ کے پیچھے اشارہ کیا: ”یہ جبریل علیہ السلام ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ وہ قیامت کے دن جس ہولناکی میں بھی تمہیں دیکھیں گے تمہیں اس سے بچا لیں گے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَنِي السَّهْمُ، فَقُلْتُ: حِسِّ فَقَالَ: " لَوْ قُلْتَ: بِسْمِ اللهِ، لَطَارَتْ بِكَ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ "
ترجمہ
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب احد کا دن ہوا تو مجھے تیر لگا، میں نے تکلیف سے ”ہائے“ کہا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم ‘بسم اللہ’ کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا کر لوگوں کے دیکھتے دیکھتے اڑا لے جاتے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَآنِي قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ»
ترجمہ
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب مجھے دیکھتے تو فرماتے: ”جو کسی ایسے شہید کو دیکھنا چاہے جو زمین پر چل رہا ہو، وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ لے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَآنِي قَالَ: «سَلِفِي فِي الدُّنْيَا وَسَلِفِي فِي الْآخِرَةِ»
ترجمہ
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب مجھے دیکھتے تو فرماتے: ”تم دنیا میں بھی میرے پیش رو ہو اور آخرت میں بھی میرے پیش رو ہو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُحُدٍ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] الْآيَةَ كُلَّهَا، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَأَقْبَلْتُ وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا السَّائِلُ، هَذَا مِنْهُمْ»
ترجمہ
…پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”ایسے مرد جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا“ [الاحزاب: 23] پوری آیت پڑھی۔ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟ راوی (طلحہ) کہتے ہیں: تو میں اس حال میں آگے بڑھا کہ مجھ پر دو سبز کپڑے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سوال کرنے والے! یہ انہی میں سے ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ سَمَّانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلْحَةَ الْخَيْرِ، وَيَوْمَ غَزْوَةِ ذَاتِ الْعَشِيرَةِ: طَلْحَةَ الْفَيَّاضَ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ طَلْحَةَ الْجُودِ "
ترجمہ
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: احد کے دن نبی کریم ﷺ نے مجھے ”طلحۃ الخیر“، غزوہ ذات العشیرہ کے دن ”طلحۃ الفیاض“، اور حنین کے دن ”طلحۃ الجود“ کا نام دیا۔
حَّدَثَنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَفِي يَدِهِ سَفَرْجَلَةٌ يُقَلِّبُهَا، فَلَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ دَحَى بِهَا نَحْوِي، ثُمَّ قَالَ: «دُونَكَهَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَإِنَّهَا تَشُدُّ الْقَلْبَ، وَتُطَيِّبُ النَّفْسَ، وَتَذْهَبُ بِطَخَاوَةِ الصَّدْرِ»
ترجمہ
…طلحہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ تھے، اور آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی (پھل) تھا جسے آپ الٹ پلٹ رہے تھے۔ جب میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھا تو آپ نے وہ میری طرف بڑھا دیا، پھر فرمایا: ”یہ لے لو، ابومحمد! یہ دل کو مضبوط کرتی ہے، طبیعت کو خوشگوار بناتی ہے، اور سینے کی گھٹن دور کرتی ہے۔“