المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه — وما أسند طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه باب: سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 209
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، أَنَّهُ صَلَّى بِقَوْمٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: نَسِيتُ أَنْ أَسْتَأْمِرَكُمْ قَبْلَ أَنْ أَتَقَدَّمَكُمْ أَفَرِضِيتُمْ بِصَلَاتِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، وَمَنْ يَكْرَهُ ذَلِكَ يَا حَوَارِيَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ أُذُنَهُ»ترجمہ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک قوم کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے تمہارا امام بن کر آگے بڑھنے سے پہلے تم سے اجازت لینا یاد نہ رہا، کیا تم میری نماز پر راضی ہو؟ لوگوں نے کہا: ہاں، اور اس بات کو اے رسول اللہ ﷺ کے حواری! کون ناپسند کرے گا؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص کسی قوم کی امامت کرے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں، تو اس کی نماز اس کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتی۔“