کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : ثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : الْيَوْمَ وَهَى الْإِسْلَامُ .
ذَكَرَهُ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ قَيْسٍ .
ذَكَرَهُ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ قَيْسٍ .
ترجمہ
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”آج اسلام (کی بنیادیں) کمزور پڑ گئی ہیں۔“
اس روایت کو قبیصہ بن عقبہ نے سفیان کے واسطے سے قیس سے نقل کیا ہے۔
اس روایت کو قبیصہ بن عقبہ نے سفیان کے واسطے سے قیس سے نقل کیا ہے۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، دَخَلْنَا عَلَيْهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَا تَعْجَلُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ، فَإِنْ أَعِشْ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي ، وَإِنْ أَمُتْ فَهُوَ إِلَيْكُمْ ، قَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّهُ وَاللهِ قَدْ قُتِلَ وَقُطِعَ ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، ثُمَّ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَيْحَكُمْ ، مَنْ هُوَ ؟ قَالُوا : أَبُو لُؤْلُؤَةَ ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : اللهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ نَظَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ ، أَيُّ وَالِدٍ كُنْتُ لَكَ ؟ قَالَ : خَيْرُ وَالِدٍ ، قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : فَأُقْسِمُ عَلَيْكَ لَمَا احْتَمَلْتَنِي حَتَّى تُلْصِقَ خَدِّي بِالْأَرْضِ ، حَتَّى أَمُوتَ كَمَا يَمُوتُ الْعَبْدُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَاللهِ ، إِنَّ ذَلِكَ لَيَشْتَدُّ عَلَيَّ يَا أَبَتَاهُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : قُمْ ، فَلَا تُرَاجِعْنِي ، قَالَ : فَقَامَ فَاحْتَمَلَهُ ، حَتَّى أَلْصَقَ خَدَّهُ بِالْأَرْضِ ، ثُمَّ قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا عَبْدَ اللهِ ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّ اللهِ تَعَالَى وَحَقِّ عُمَرَ ، إِذَا مُتُّ فَدَفَنْتَنِي ، لمَا لَمْ تَغْسِلْ رَأْسَكَ حَتَّى تَبِيعَ مِنْ رِبَاعِ آلِ عُمَرَ بِثَمَانِينَ أَلْفًا ، فَتَضَعُهَا فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَكَانَ عِنْدَ رَأْسِهِ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَمَا قَدْرُ هَذِهِ الثَّمَانِينَ أَلْفًا ، قَدْ أَضْرَرْتَ بِعِيَالِكَ ، أَوْ بِآلِ عُمَرَ ؟
قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِلَيْكَ عَنِّي يَا ابْنَ عَوْفٍ ، فَنَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، وَاثْنَيْنِ وَثَلَاثِينَ أَلْفًا أَنْفَقْتُهَا فِي اثْنَتَيْ عَشْرَةَ حَجَّةً حَجَجْتُهَا فِي وِلَايَتِي ، وَنَوَائِبَ كَانَتْ تَنُوبُنِي فِي الرُّسُلِ ، تَأْتِينِي مِنْ قِبَلِ الْأَمْصَارِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَبْشِرْ وَأَحْسِنِ الظَّنَّ بِاللهِ تَعَالَى ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، إِلَّا وَقَدْ أَخَذَ مِثْلَ الَّذِي أَخَذْتَ مِنَ الْفَيْءِ الَّذِي قَدْ جَعَلَهُ اللهُ تَعَالَى لَنَا ، وَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، وَقَدْ كَانَتْ لَكَ مَعَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوَابِقُ فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا ابْنَ عَوْفٍ ، وَدَّ عُمَرُ أَنَّهُ لَوْ خَرَجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلَ فِيهَا ، إِنِّي أَوَدُّ أَنْ أَلْقَى اللهَ تَعَالَى ، فَلَا تَطْلُبُونِي بِقَلِيلٍ وَلَا كَثِيرٍ .
* ثُمَامَةُ تَكَلَّمَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ ، وَسِيَاقُ قِصَّةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي الصَّحِيحَيْنِ لَيْسَ فِيهَا غَالِبُ هَذَا الْمَذْكُورِ هُنَا .
قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِلَيْكَ عَنِّي يَا ابْنَ عَوْفٍ ، فَنَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، وَاثْنَيْنِ وَثَلَاثِينَ أَلْفًا أَنْفَقْتُهَا فِي اثْنَتَيْ عَشْرَةَ حَجَّةً حَجَجْتُهَا فِي وِلَايَتِي ، وَنَوَائِبَ كَانَتْ تَنُوبُنِي فِي الرُّسُلِ ، تَأْتِينِي مِنْ قِبَلِ الْأَمْصَارِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَبْشِرْ وَأَحْسِنِ الظَّنَّ بِاللهِ تَعَالَى ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، إِلَّا وَقَدْ أَخَذَ مِثْلَ الَّذِي أَخَذْتَ مِنَ الْفَيْءِ الَّذِي قَدْ جَعَلَهُ اللهُ تَعَالَى لَنَا ، وَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، وَقَدْ كَانَتْ لَكَ مَعَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوَابِقُ فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا ابْنَ عَوْفٍ ، وَدَّ عُمَرُ أَنَّهُ لَوْ خَرَجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلَ فِيهَا ، إِنِّي أَوَدُّ أَنْ أَلْقَى اللهَ تَعَالَى ، فَلَا تَطْلُبُونِي بِقَلِيلٍ وَلَا كَثِيرٍ .
* ثُمَامَةُ تَكَلَّمَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُ ، وَسِيَاقُ قِصَّةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي الصَّحِيحَيْنِ لَيْسَ فِيهَا غَالِبُ هَذَا الْمَذْكُورِ هُنَا .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تو ہم ان کے پاس حاضر ہوئے، اس وقت وہ فرما رہے تھے: ”اس شخص (قاتل) کے معاملے میں جلدی نہ کرو، اگر میں زندہ بچ گیا تو اس کے بارے میں خود اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا، اور اگر میں فوت ہو گیا تو پھر یہ معاملہ تمہارے سپرد ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! اللہ کی قسم! آپ کو تو قتل کیا جا چکا ہے اور (زخموں سے جسم) چھلنی ہو چکا ہے، تو انہوں نے «إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“ پڑھا، پھر فرمایا: ”تمہارا بھلا ہو! وہ (قاتل) کون ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ وہ ابو لؤلؤہ ہے، تو انہوں نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر اپنے بیٹے عبداللہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! میں تمہارے لیے کیسا باپ ثابت ہوا؟“ انہوں نے عرض کی: آپ بہترین باپ ثابت ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے اس وقت تک اٹھائے رکھو جب تک میرا رخسار زمین سے نہ لگا دو، تاکہ مجھے اس حال میں موت آئے جیسے ایک عاجز بندہ فوت ہوتا ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے ابا جان! اللہ کی قسم، یہ عمل مجھ پر بہت گراں گزر رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اٹھو! اور میری بات رد نہ کرو۔“ راوی کہتے ہیں: پس وہ اٹھے اور انہیں اٹھا کر ان کا رخسار زمین سے لگا دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے حق اور عمر کے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جب میں فوت ہو جاؤں اور تم مجھے دفن کر چکو، تو اپنا سر اس وقت تک نہ دھونا جب تک تم آلِ عمر کی جائیدادوں میں سے اسی ہزار (درہم) کے عوض فروخت کر کے اسے مسلمانوں کے بیت المال میں جمع نہ کروا دو۔“ یہ سن کر سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، جو ان کے سرہانے موجود تھے، کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! ان اسی ہزار کی کیا حیثیت ہے؟ آپ نے (اتنی بڑی رقم کا مطالبہ کر کے) اپنے اہل و عیال یا آلِ عمر کو تنگی میں ڈال دیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابنِ عوف! مجھ سے دور ہو جاؤ۔“ پھر اپنے بیٹے عبداللہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اے میرے بیٹے! بتیس ہزار (درہم مزید) وہ ہیں جو میں نے اپنی خلافت کے دوران بارہ حج کرنے میں اور ان وفود و قاصدوں کی ضروریات پر خرچ کیے جو مختلف شہروں سے میرے پاس آتے تھے۔“ تب سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ خوش ہو جائیے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھیے، کیونکہ ہم مہاجرین میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے مالِ فئے میں سے اسی طرح حصہ نہ لیا ہو جیسے آپ نے لیا، جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جائز قرار دیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ آپ سے راضی تھے، اور آپ کو آپ ﷺ کی رفاقت میں سبقتِ ایمانی کے فضائل بھی حاصل ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابنِ عوف! عمر کی تو یہ تمنا ہے کہ وہ اس (خلافت کی ذمہ داریوں) سے اسی طرح (بے داغ) نکل جائے جیسے اس میں داخل ہوا تھا، میری یہ خواہش ہے کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملوں تو تم مجھ سے کسی بھی تھوڑی یا زیادہ چیز کا مطالبہ کرنے والے نہ ہو۔“
اس روایت کے راوی ثُمامہ کے بارے میں علی بن مدینی اور دیگر ائمہ نے کلام کیا ہے، نیز صحیحین میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے کے جو سیاق موجود ہیں ان میں اس مذکورہ قصے کی اکثر تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
اس روایت کے راوی ثُمامہ کے بارے میں علی بن مدینی اور دیگر ائمہ نے کلام کیا ہے، نیز صحیحین میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعے کے جو سیاق موجود ہیں ان میں اس مذکورہ قصے کی اکثر تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَكَانَ يَصْنَعُ الرَّحَا ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَسْتَغِلُّهُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَثْقَلَ عَلَيَّ غَلَّتِي ، فَكَلِّمْهُ يُخَفِّفْ عَنِّي ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : اتَّقِ اللهَ تَعَالَى ، وَأَحْسِنْ إِلَى مَوْلَاكَ ، وَمِنْ نِيَّةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنْ يَلْقَى الْمُغِيرَةَ فَيُكَلِّمَهُ ، فَيُخَفِّفَ عَنْهُ ، فَغَضِبَ الْعَبْدُ ، وَقَالَ : وَسِعَ النَّاسَ عَدْلُهُ كُلُّهُمْ غَيْرِي ، فَأَضْمَرَ عَلَى قَتْلِهِ ، فَاصْطَنَعَ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ ، وَشَحَذَهُ وَسَمَّهُ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْهُرْمُزَانَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَرَى هَذَا ؟ قَالَ : أَرَى أَنَّكَ لَا تَضْرِبُ بِهِ أَحَدًا إِلَّا قَتَلْتَهُ ، فَتَحَيَّنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ ، فَجَاءَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، حَتَّى قَامَ وَرَاءَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَكَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَتَكَلَّمَ يَقُولُ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، فَذَهَبَ يَقُولُ كَمَا كَانَ يَقُولُ ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فِي كَتِفِهِ ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ ، فَسَقَطَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَطَعَنَ بِخِنْجَرِهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَهَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ ، وَجُرِحَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ، وَحُمِلَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَذُهِبَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ ، وَمَاجَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ ، فَنَادَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، فَفَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَصَلَّى بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، تَوَجَّهُوا إِلَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَدَعَا بِشَرَابٍ لِيَنْظُرَ مَا قَدْرُ جُرْحِهِ ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ ، فَخَرَجَ مَنْ جُرْحِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ أَنَبِيذٌ هُوَ أَمْ دَمٌ ؟ فَدَعَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ ، فَقَالُوا : لَا بَأْسَ عَلَيْكَ ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسًا فَقَدْ قُتِلْتُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : عَلَى مَا تَقُولُونَ ، وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا ، وَأَنَّ صُحْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِمَتْ لِي ، فَتَكَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ : لَا ، وَاللهِ لَا تَخْرُجُ مِنْهَا كَفَافًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَسْتَرِيحُ إِلَى كَلَامِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ : كَرِّرْ ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : عَلَى مَا تَقُولُ ، لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنْ أَبِي يَعْلَى بِطُولِهِ ، وَأَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ بِقَلِيلٍ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ ، وَمُعْظَمُهُ لَيْسَ فِيهِ .
قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَسْتَرِيحُ إِلَى كَلَامِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ : كَرِّرْ ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : عَلَى مَا تَقُولُ ، لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنْ أَبِي يَعْلَى بِطُولِهِ ، وَأَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ بِقَلِيلٍ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ ، وَمُعْظَمُهُ لَيْسَ فِيهِ .
ترجمہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابولؤلؤ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا اور وہ چکیاں بنایا کرتا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم خراج (کمائی کا حصہ) وصول کرتے تھے، ایک مرتبہ ابولؤلؤ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہنے لگا: ”اے امیر المومنین! مغیرہ نے مجھ پر خراج کا بہت بوجھ ڈال دیا ہے، آپ ان سے بات کریں کہ وہ مجھ سے کچھ کمی کر دیں“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے آقا کے ساتھ خیر خواہی کرو“، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیت یہ تھی کہ وہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مل کر اس کا بوجھ کم کرنے کی سفارش کریں گے، لیکن وہ غلام غصے میں آ گیا اور کہنے لگا: ”ان کا عدل میرے سوا تمام لوگوں کو شامل ہے“، چنانچہ اس نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا اور ایک دو شاخہ خنجر تیار کیا، اسے خوب تیز کیا اور اسے زہر آلود کر دیا، پھر وہ اسے لے کر ہرمزان کے پاس آیا اور پوچھا: ”تم اسے کیسا پاتے ہو؟“، اس نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ تم اس سے جس پر بھی وار کرو گے اسے قتل ہی کر دو گے“، پھر ابولؤلؤ موقع کی تلاش میں رہا اور صبح کی نماز کے وقت آیا یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب نماز کی اقامت کہی جاتی تو آپ گفتگو فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے: ”اپنی صفیں سیدھی کر لو“، چنانچہ اس دن بھی آپ وہی فرمانے لگے جو ہمیشہ فرمایا کرتے تھے، پھر جب آپ نے نماز کی تکبیر کہی تو ابولؤلؤ نے آپ کے کندھے اور پہلو میں خنجر مارا جس سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے، اس نے اپنے خنجر سے مزید تیرہ آدمیوں کو بھی زخمی کیا جن میں سے سات جاں بحق ہو گئے اور چھ زخمی ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لے جایا گیا اور لوگوں میں اضطراب پھیل گیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا، تب سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: ”اے لوگو! نماز، نماز“، چنانچہ لوگ نماز کی طرف متوجہ ہوئے اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر قرآن کی دو مختصر ترین سورتوں کے ساتھ انہیں نماز پڑھائی، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے، آپ نے پینے کی کوئی چیز منگوائی تاکہ زخم کی گہرائی کا اندازہ کر سکیں، آپ کو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے اسے پیا تو وہ آپ کے زخم سے باہر نکل آیا، لوگ یہ نہ پہچان سکے کہ یہ نبیذ ہے یا خون، پھر آپ نے دودھ منگوایا اور اسے پیا تو وہ بھی زخم سے باہر نکل آیا، لوگوں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا (فکر کی کوئی بات نہیں)“، آپ نے فرمایا: ”اگر قتل ہونا کوئی پریشانی کی بات ہے تو میں تو قتل کر دیا گیا ہوں“، پھر لوگ آپ کی تعریف و ثنا کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: ”تم جو کچھ کہہ رہے ہو، اس کے بارے میں میری تو یہ تمنا تھی کہ میں اس دنیا سے اس طرح نکلوں کہ میرا معاملہ برابر سرابر ہو جائے، نہ میرا کسی پر بوجھ ہو اور نہ کسی کا مجھ پر حق، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میرے لیے سلامت رہے“، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”نہیں، اللہ کی قسم! آپ یہاں سے محض برابر سرابر ہو کر نہیں نکلیں گے (بلکہ آپ کا مقام بہت بلند ہے)“، پھر انہوں نے پوری تفصیل ذکر کی، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی باتوں سے سکون محسوس کرتے تھے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اپنی بات دہراؤ“، انہوں نے دوبارہ وہی باتیں عرض کیں تو آپ نے فرمایا: ”تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کے باوجود اگر میرے پاس زمین کی وسعت کے برابر سونا ہو تو میں آخرت کے اس منظر کی ہولناکی سے بچنے کے لیے اسے بطور فدیہ دے دوں“۔
اسے ابن حبان نے ابویعلیٰ سے طویل روایت کیا ہے، جبکہ اس کی اصل صحیح بخاری و مسلم میں مختصراً موجود ہے لیکن اس سیاق کا بیشتر حصہ وہاں مذکور نہیں ہے۔
اسے ابن حبان نے ابویعلیٰ سے طویل روایت کیا ہے، جبکہ اس کی اصل صحیح بخاری و مسلم میں مختصراً موجود ہے لیکن اس سیاق کا بیشتر حصہ وہاں مذکور نہیں ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَأَخَذَ تِبْنَةً ، وَقَالَ : وَدِدْتُ أَنِّي هَذِهِ ، وَوَدِدْتُ أَنَّ أُمِّي لَمْ تَلِدْنِي ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا .
ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (زمین سے) ایک تنکا اٹھایا اور (کمالِ خشیتِ الٰہی سے) فرمایا: ”میری یہ تمنا ہے کہ کاش میں یہی (تنکا) ہوتا، اور میری یہ آرزو ہے کہ کاش میری ماں نے مجھے جنم ہی نہ دیا ہوتا، اور کاش کہ میں ﴿نَسْيًا مَنْسِيًّا﴾ [سورة مريم: 23] یعنی ”ایسی چیز بن جاتا جسے مکمل طور پر بھلا دیا گیا ہو اور اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہتا“۔“
اس اثر کی سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہے، تاہم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے خشیتِ الٰہی اور فکرِ آخرت پر مبنی اس نوعیت کے کلمات دیگر مستند آثار میں بھی مروی ہیں۔
اس اثر کی سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہے، تاہم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے خشیتِ الٰہی اور فکرِ آخرت پر مبنی اس نوعیت کے کلمات دیگر مستند آثار میں بھی مروی ہیں۔
وَبِهِ إِلَى عَاصِمٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، يَقُولُ : وَيْلٌ لِي ، وَوَيْلٌ لِأُمِّي ، إِنْ لَمْ يَغْفِرِ اللهُ لِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ، فَقَضَى مَا بَيْنَهُمَا كَلَامٌ .
ترجمہ
ابان بن عثمان رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (اپنی وفات کے وقت) یہ فرماتے ہوئے سنا: «وَيْلٌ لِي، وَوَيْلٌ لِأُمِّي، إِنْ لَمْ يَغْفِرِ اللهُ لِي» ”ہلاکت و بربادی ہو میرے لیے اور ہلاکت ہو میری ماں کے لیے، اگر اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت نہ فرمائی۔“ آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے، پھر آپ کا انتقال ہو گیا اور ان کلمات کے بعد کوئی گفتگو نہ ہوئی۔
اس اثر کو امام احمد بن حنبل نے 'فضائل الصحابة' (721) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہے، تاہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی وفات کے وقت انتہائی عجز اور خوفِ خدا کا اظہار کرنا دیگر صحیح روایات و آثار سے بھی ثابت ہے۔
اس اثر کو امام احمد بن حنبل نے 'فضائل الصحابة' (721) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہے، تاہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی وفات کے وقت انتہائی عجز اور خوفِ خدا کا اظہار کرنا دیگر صحیح روایات و آثار سے بھی ثابت ہے۔