المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ قتل عمر باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَبِهِ إِلَى عَاصِمٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، يَقُولُ : وَيْلٌ لِي ، وَوَيْلٌ لِأُمِّي ، إِنْ لَمْ يَغْفِرِ اللهُ لِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ، فَقَضَى مَا بَيْنَهُمَا كَلَامٌ .ابان بن عثمان رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (اپنی وفات کے وقت) یہ فرماتے ہوئے سنا: «وَيْلٌ لِي، وَوَيْلٌ لِأُمِّي، إِنْ لَمْ يَغْفِرِ اللهُ لِي» ”ہلاکت و بربادی ہو میرے لیے اور ہلاکت ہو میری ماں کے لیے، اگر اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت نہ فرمائی۔“ آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ دہرائے، پھر آپ کا انتقال ہو گیا اور ان کلمات کے بعد کوئی گفتگو نہ ہوئی۔
اس اثر کو امام احمد بن حنبل نے 'فضائل الصحابة' (721) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہے، تاہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی وفات کے وقت انتہائی عجز اور خوفِ خدا کا اظہار کرنا دیگر صحیح روایات و آثار سے بھی ثابت ہے۔