المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ ذِكْرِ قتل عمر باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3902
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَأَخَذَ تِبْنَةً ، وَقَالَ : وَدِدْتُ أَنِّي هَذِهِ ، وَوَدِدْتُ أَنَّ أُمِّي لَمْ تَلِدْنِي ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا .ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (زمین سے) ایک تنکا اٹھایا اور (کمالِ خشیتِ الٰہی سے) فرمایا: ”میری یہ تمنا ہے کہ کاش میں یہی (تنکا) ہوتا، اور میری یہ آرزو ہے کہ کاش میری ماں نے مجھے جنم ہی نہ دیا ہوتا، اور کاش کہ میں ﴿نَسْيًا مَنْسِيًّا﴾ [سورة مريم: 23] یعنی ”ایسی چیز بن جاتا جسے مکمل طور پر بھلا دیا گیا ہو اور اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہتا“۔“
اس اثر کی سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہے، تاہم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے خشیتِ الٰہی اور فکرِ آخرت پر مبنی اس نوعیت کے کلمات دیگر مستند آثار میں بھی مروی ہیں۔