❮
❯
حدیث نمبر: 3901
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَكَانَ يَصْنَعُ الرَّحَا ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَسْتَغِلُّهُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَثْقَلَ عَلَيَّ غَلَّتِي ، فَكَلِّمْهُ يُخَفِّفْ عَنِّي ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : اتَّقِ اللهَ تَعَالَى ، وَأَحْسِنْ إِلَى مَوْلَاكَ ، وَمِنْ نِيَّةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - أَنْ يَلْقَى الْمُغِيرَةَ فَيُكَلِّمَهُ ، فَيُخَفِّفَ عَنْهُ ، فَغَضِبَ الْعَبْدُ ، وَقَالَ : وَسِعَ النَّاسَ عَدْلُهُ كُلُّهُمْ غَيْرِي ، فَأَضْمَرَ عَلَى قَتْلِهِ ، فَاصْطَنَعَ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ ، وَشَحَذَهُ وَسَمَّهُ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْهُرْمُزَانَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَرَى هَذَا ؟ قَالَ : أَرَى أَنَّكَ لَا تَضْرِبُ بِهِ أَحَدًا إِلَّا قَتَلْتَهُ ، فَتَحَيَّنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ ، فَجَاءَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، حَتَّى قَامَ وَرَاءَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَكَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَتَكَلَّمَ يَقُولُ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ، فَذَهَبَ يَقُولُ كَمَا كَانَ يَقُولُ ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فِي كَتِفِهِ ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ ، فَسَقَطَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، وَطَعَنَ بِخِنْجَرِهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَهَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ ، وَجُرِحَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ، وَحُمِلَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَذُهِبَ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ ، وَمَاجَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ ، فَنَادَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ ، فَفَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَصَلَّى بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، تَوَجَّهُوا إِلَى عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَدَعَا بِشَرَابٍ لِيَنْظُرَ مَا قَدْرُ جُرْحِهِ ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ ، فَخَرَجَ مَنْ جُرْحِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ أَنَبِيذٌ هُوَ أَمْ دَمٌ ؟ فَدَعَا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ ، فَقَالُوا : لَا بَأْسَ عَلَيْكَ ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسًا فَقَدْ قُتِلْتُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : عَلَى مَا تَقُولُونَ ، وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا ، وَأَنَّ صُحْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِمَتْ لِي ، فَتَكَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ : لَا ، وَاللهِ لَا تَخْرُجُ مِنْهَا كَفَافًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَسْتَرِيحُ إِلَى كَلَامِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فَقَالَ : كَرِّرْ ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : عَلَى مَا تَقُولُ ، لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنْ أَبِي يَعْلَى بِطُولِهِ ، وَأَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ بِقَلِيلٍ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ ، وَمُعْظَمُهُ لَيْسَ فِيهِ .
ترجمہ

سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابولؤلؤ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا اور وہ چکیاں بنایا کرتا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم خراج (کمائی کا حصہ) وصول کرتے تھے، ایک مرتبہ ابولؤلؤ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہنے لگا: ”اے امیر المومنین! مغیرہ نے مجھ پر خراج کا بہت بوجھ ڈال دیا ہے، آپ ان سے بات کریں کہ وہ مجھ سے کچھ کمی کر دیں“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اپنے آقا کے ساتھ خیر خواہی کرو“، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیت یہ تھی کہ وہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مل کر اس کا بوجھ کم کرنے کی سفارش کریں گے، لیکن وہ غلام غصے میں آ گیا اور کہنے لگا: ”ان کا عدل میرے سوا تمام لوگوں کو شامل ہے“، چنانچہ اس نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا اور ایک دو شاخہ خنجر تیار کیا، اسے خوب تیز کیا اور اسے زہر آلود کر دیا، پھر وہ اسے لے کر ہرمزان کے پاس آیا اور پوچھا: ”تم اسے کیسا پاتے ہو؟“، اس نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ تم اس سے جس پر بھی وار کرو گے اسے قتل ہی کر دو گے“، پھر ابولؤلؤ موقع کی تلاش میں رہا اور صبح کی نماز کے وقت آیا یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب نماز کی اقامت کہی جاتی تو آپ گفتگو فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے: ”اپنی صفیں سیدھی کر لو“، چنانچہ اس دن بھی آپ وہی فرمانے لگے جو ہمیشہ فرمایا کرتے تھے، پھر جب آپ نے نماز کی تکبیر کہی تو ابولؤلؤ نے آپ کے کندھے اور پہلو میں خنجر مارا جس سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے، اس نے اپنے خنجر سے مزید تیرہ آدمیوں کو بھی زخمی کیا جن میں سے سات جاں بحق ہو گئے اور چھ زخمی ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر لے جایا گیا اور لوگوں میں اضطراب پھیل گیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا، تب سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: ”اے لوگو! نماز، نماز“، چنانچہ لوگ نماز کی طرف متوجہ ہوئے اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر قرآن کی دو مختصر ترین سورتوں کے ساتھ انہیں نماز پڑھائی، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے، آپ نے پینے کی کوئی چیز منگوائی تاکہ زخم کی گہرائی کا اندازہ کر سکیں، آپ کو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے اسے پیا تو وہ آپ کے زخم سے باہر نکل آیا، لوگ یہ نہ پہچان سکے کہ یہ نبیذ ہے یا خون، پھر آپ نے دودھ منگوایا اور اسے پیا تو وہ بھی زخم سے باہر نکل آیا، لوگوں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا (فکر کی کوئی بات نہیں)“، آپ نے فرمایا: ”اگر قتل ہونا کوئی پریشانی کی بات ہے تو میں تو قتل کر دیا گیا ہوں“، پھر لوگ آپ کی تعریف و ثنا کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: ”تم جو کچھ کہہ رہے ہو، اس کے بارے میں میری تو یہ تمنا تھی کہ میں اس دنیا سے اس طرح نکلوں کہ میرا معاملہ برابر سرابر ہو جائے، نہ میرا کسی پر بوجھ ہو اور نہ کسی کا مجھ پر حق، اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میرے لیے سلامت رہے“، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”نہیں، اللہ کی قسم! آپ یہاں سے محض برابر سرابر ہو کر نہیں نکلیں گے (بلکہ آپ کا مقام بہت بلند ہے)“، پھر انہوں نے پوری تفصیل ذکر کی، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی باتوں سے سکون محسوس کرتے تھے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اپنی بات دہراؤ“، انہوں نے دوبارہ وہی باتیں عرض کیں تو آپ نے فرمایا: ”تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کے باوجود اگر میرے پاس زمین کی وسعت کے برابر سونا ہو تو میں آخرت کے اس منظر کی ہولناکی سے بچنے کے لیے اسے بطور فدیہ دے دوں“۔
اسے ابن حبان نے ابویعلیٰ سے طویل روایت کیا ہے، جبکہ اس کی اصل صحیح بخاری و مسلم میں مختصراً موجود ہے لیکن اس سیاق کا بیشتر حصہ وہاں مذکور نہیں ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 3901
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنْ أَبِي يَعْلَى بِطُولِهِ ، وَأَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ بِقَلِيلٍ مِنْ هَذَا السِّيَاقِ ، وَمُعْظَمُهُ لَيْسَ فِيهِ . »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 6905، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 4538، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 6921، وأخرجه مسند أحمد برقم: 131، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 2731»