کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: مریض کی بیمار پرسی اور عیادت کرنے کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : إِنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَتَعُودُ الْحَسَنَ وَفِي نَفْسِكَ مَا فِيهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : لَسْتَ بِرَبِّي تَصْرِفُ قَلْبِي حَيْثُ شِئْتَ ، قَالَ : أَمَّا ذَاكَ فَلَا يَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ إِلَّا ابْتَعَثَ اللهُ تَعَالَى لَهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ ... الْحَدِيثَ " .
2469 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهِ .
ترجمہ
عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن حریث نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیمار پرسی کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا: ”کیا تم حسن کی عیادت کر رہے ہو حالانکہ تمہارے دل میں (ہمارے متعلق) وہ سب کچھ (بغض و عناد) موجود ہے جو موجود ہے؟“ اس پر عمرو نے انہیں جواب دیا: ”آپ میرے پروردگار نہیں ہیں کہ میرے دل کو جہاں چاہیں پھیر دیں“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بہرصورت، یہ بات ہمیں اس سے نہیں روکتی کہ ہم تمہاری خیر خواہی کریں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو مسلمان بھی اپنے کسی (مسلمان) بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے روانہ کر دیتا ہے...“ (مکمل حدیث)۔
امام احمد بن منیع نے اسے یزید سے اور امام حارث نے اسے عفان سے، دونوں نے حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2469
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :—. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 969، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3098، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1442، وأخرجه مسند أحمد برقم: 756، وأخرجه مسند البزار برقم: 620، 777، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1304، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1322، 7460، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 2958»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَرَجَ يُرِيدُ أَخًا مُؤْمِنًا يَعُودُهُ ، خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَيْهِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَ الْمَرِيضِ وَاسْتَوَى جَالِسًا غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ " .
ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ جب کوئی شخص اپنے کسی مومن بھائی کی عیادت (بیمار پرسی) کے ارادے سے نکلتا ہے، تو وہ (منزل تک پہنچنے تک) اپنی کمر تک اللہ کی رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے، پھر جب وہ مریض کے پاس پہنچ کر اطمینان سے بیٹھ جاتا ہے، تو رحمتِ الہٰی اسے مکمل طور پر اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔“
اسے امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابو ہشام الرفاعی ضعیف ہیں، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس حدیث کا مضمون درست ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2470
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 969، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 3098، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1442، وأخرجه مسند أحمد برقم: 613، وأخرجه فتح الباري برقم: 5293، وأخرجه مسند البزار برقم: 561، 620، 777، 780، 810، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1304، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 16، 200، 202، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1322، 7460، 8922، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 637، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 7744، وأخرجه شرح السنة برقم: 1408»
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ وَافَقَ صِيَامَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَعَادَ مَرِيضًا ، وَشَهِدَ جِنَازَةً ، وَأَعْتَقَ رَقَبَةً ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کا روزہ جمعہ کے دن کے موافق ہوا، اس نے کسی بیمار کی تیمارداری کی، کسی جنازے میں شرکت کی اور کسی غلام کو آزاد کیا، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“
[تخريج: مسند أبي يعلى: 1018، وصحيح ابن حبان: 2771، والمعجم الأوسط للطبراني: 5543، وفي سنده ابن لهيعة وهو سيء الحفظ لكن للحديث شواهد يرتقي بها]۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2471
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 7484، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2369، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3028، 4612، 7510، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1800/1»
قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَا يَزَالُ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ ، حَتَّى إِذَا قَعَدَ اسْتَنْقَعَ فِيهَا " .
زَادَ عَبْدٌ : " ثُمَّ إِذَا رَجَعَ لَا يَزَالُ يَخُوضُ فِيهَا حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ جَاءَ " .
ترجمہ
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت و تیمارداری کے لیے جاتا ہے تو وہ (جانے کے دوران) مسلسل اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو اس رحمت میں پوری طرح غرق ہو جاتا ہے (گویا رحمتِ الہٰی اسے ڈھانپ لیتی ہے)۔“
امام عبد بن حمید نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جب وہ عیادت کے بعد واپس لوٹتا ہے تو وہ اپنے گھر پہنچنے تک مسلسل اسی طرح رحمتِ الہٰی میں غوطہ زن رہتا ہے جہاں سے وہ (عیادت کے لیے) روانہ ہوا تھا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2472
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف مرسل »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 15370، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 907، 5292، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3154، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 7758، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 1136»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَفِيهِ : " وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا فَلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَنْزِلِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ ، وَمَحْوُ سَبْعِينَ أَلْفَ سَيِّئَةٍ ، وَرَفْعُ سَبْعِينَ أَلْفَ دَرَجَةٍ ، وَيُوَكَّلُ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَعُودُونَهُ وَيَسْتَغْفِرُونَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ قَامَ عَلَى مَرِيضٍ يَوْمًا وَلَيْلَةً بَعَثَهُ اللهُ تَعَالَى مَعَ خَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، حَتَّى يَجُوزَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ اللَّامِعِ ، وَمَنْ سَعَى لِمَرِيضٍ فِي حَاجَةٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : فَإِنْ كَانَ الْمَرِيضُ قَرَابَتَهُ أَوْ بَعْضَ أَهْلِهِ ؟ قَالَ : " وَمَنْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِمَّنْ يَسْعَى فِي حَاجَةِ أَهْلِهِ ؟ " .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں یہ (الفاظ بھی) تھے: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے، تو اس کے ہر اس قدم کے بدلے جو وہ اٹھاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس لوٹ آئے، اس کے لیے ستر ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، ستر ہزار برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور ستر ہزار درجات بلند کر دیے جاتے ہیں؛ نیز اس پر ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیے جاتے ہیں جو اس کی زیارت کرتے ہیں اور روزِ قیامت تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ اور جو شخص کسی مریض کی (تیمار داری کے لیے) ایک دن اور ایک رات قیام کرے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محشور فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ پل صراط سے کوندتی بجلی کی طرح گزر جائے گا۔ اور جو شخص کسی مریض کی کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تگ و دو کرے، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے وہ اس دن (پاک و صاف) تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔“ اس پر انصار کے ایک شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ مریض اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا گھر کا فرد ہو (تب بھی یہی فضیلت ہے)؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بھلا اس شخص سے بڑھ کر اجر کا مستحق اور کون ہو سکتا ہے جو اپنے اہل و عیال کی ضروریات کی تکمیل کے لیے تگ و دو کرے؟“
یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2473
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ . »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَقَدَ الرَّجُلَ مِنْ إِخْوَانِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ كَانَ غَائِبًا دَعَا لَهُ ، وَإِنْ كَانَ شَاهِدًا زَارَهُ ، وَإِنْ كَانَ مَرِيضًا عَادَهُ ، فَفَقَدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، تَرَكْنَاهُ مِثْلَ الْفَرْخِ ، لَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِهِ شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ : عُودُوا أَخَاكُمْ ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُودُهُ ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا دَخَلْنَا إِذَا هُوَ كَمَا وُصِفَ لَنَا ، فَقَالَ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَ : لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ فِي رَأْسِي إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِي ، قَالَ : وَمِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّيْتُ مَعَكَ ، وَأَنْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ : الْقَارِعَةُ مَا الْقَارِعَةُ إِلَى آخِرِهَا ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ مَا كَانَ لِي مِنْ ذَنْبٍ أَنْتَ مُعَذِّبِي عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْ لِي عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا ، فَتَرَانِي كَمَا تَرَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَبِئْسَ مَا قُلْتَ ، أَلَا سَأَلْتَ اللهَ تَعَالَى أَنْ يُؤْتِيَكَ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَأَنْ يَقِيَكَ عَذَابَ النَّارِ ، قَالَ : فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِذَلِكَ ، وَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَامَ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ ، فَلَمَّا خَرَجْنَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، حَضَضْتَنَا آنِفًا عَلَى عِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، فَمَا لَنَا فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ يَعُودُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَيْهِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، وَغَمَرَتِ الْمَرِيضَ الرَّحْمَةُ ، وَكَانَ الْمَرِيضُ فِي ظِلِّ عَرْشِ اللهِ تَعَالَى ، وَكَانَ الْعَائِدُ فِي ظِلِّ قُدْسِهِ ، وَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ : " انْظُرُوا كَمِ احْتُبِسُوا عِنْدَ الْمَرِيضِ الْعُوَّادُ " ، قَالَ : يَقُولُونَ : أَيُّ رَبِّ ، فُوَاقًا - إِنْ كَانَ فُوَاقًا - فَيَقُولُ لِمَلَائِكَتِهِ : " اكْتُبُوا لِعَبْدِي عِبَادَةَ أَلْفِ سَنَةٍ " فَإِنْ كَانَ احْتُبِسُوا سَاعَةً ، يَقُولُ : " اكْتُبُوا لَهُ دَهْرًا " وَالدَّهْرُ عَشَرَةُ آلَافِ سَنَةٍ ، إِنْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ عَاشَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِنْ كَانَ صَبَاحًا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَكَانَ فِي خُرَافَةِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ ، وَكَانَ فِي خُرَافَةِ الْجَنَّةِ .
2474 \ 2 - حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَعُودُهُ فَذَكَرَهُ ... وَزَادَ : فَقَالَهَا ، فَعُوفِيَ .
قُلْتُ : أَوَّلُ الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَيْسَ بِسِيَاقِهِ ، وَمِنْ سُؤَالِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى آخِرِهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ وَاهٍ ، وَآثَارُ الْوَضْعِ لَائِحَةٌ عَلَيْهِ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بھائیوں میں سے کسی کو تین دن تک نہ پاتے تو اس کے متعلق دریافت فرماتے؛ اگر وہ غائب (سفر پر) ہوتا تو اس کے لیے دعا فرماتے، اگر وہ شہر میں موجود ہوتا تو اس کی زیارت فرماتے اور اگر وہ بیمار ہوتا تو اس کی عیادت فرماتے۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے ایک شخص کو (مجلس میں) نہ پایا تو تیسرے دن اس کے بارے میں دریافت فرمایا، تو عرض کیا گیا: "اے اللہ کے رسول! ہم اسے پرندے کے ایک (انتہائی کمزور) چوزے کی مانند چھوڑ کر آئے ہیں، جو کچھ اس کے حلق سے نیچے اترتا ہے وہ فوراً ہی خارج ہو جاتا ہے (یعنی اس کے پیٹ میں کچھ نہیں ٹھہرتا)۔" پس نبی کریم ﷺ نے اپنے بعض صحابہ سے فرمایا: ”اپنے بھائی کی عیادت (تیمار داری) کرو۔“ چنانچہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس کی عیادت کے لیے نکلے اور اس جماعت میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اسے ویسے ہی (خستہ حال) پایا جیسا ہمیں بتایا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم خود کو کیسا پاتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: "میرے حلق سے جو چیز بھی نیچے اترتی ہے وہ اسی وقت (پاخانہ کے راستے) نکل جاتی ہے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ (حال) کس وجہ سے ہوا؟“ اس نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! میرا آپ کے پاس سے گزر ہوا جبکہ آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ یہ سورت ﴿الْقَارِعَةُ ۝ مَا الْقَارِعَةُ﴾ [سورة القارعة: 1-2] آخر تک تلاوت فرما رہے تھے، تو (خوفِ آخرت کے سبب) میں نے یہ دعا مانگی: «اللَّهُمَّ مَا كَانَ لِي مِنْ ذَنْبٍ أَنْتَ مُعَذِّبِي عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْ لِي عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا» ”اے اللہ! میرے جو گناہ ایسے ہیں جن پر تو مجھے آخرت میں سزا دینے والا ہے، ان کی سزا مجھے دنیا ہی میں جلد دے دے۔“ تو اب آپ مجھے اسی حال میں دیکھ رہے ہیں جس میں میں ہوں۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بہت ہی بری بات کہی! تم نے اللہ تعالیٰ سے یہ کیوں نہ مانگا کہ وہ تمہیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کرے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرمائے اور تمہیں آگ کے عذاب سے بچائے؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ نے اسے حکم دیا تو اس نے یہی دعا کی اور نبی کریم ﷺ نے بھی اس کے لیے دعا فرمائی، تو وہ شخص فوراً ایسے کھڑا ہو گیا جیسے کوئی جانور رسی سے کھل کر چست و توانا ہو جاتا ہے۔ جب ہم وہاں سے نکلے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! ابھی آپ نے ہمیں مریض کی عیادت پر ابھارا ہے، تو اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟" رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک جب کوئی مسلمان شخص اپنے گھر سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے نکلتا ہے تو وہ اپنے کولہوں تک اللہ کی رحمت میں غوطہ زن ہو جاتا ہے، پھر جب وہ مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو رحمت اسے بھی ڈھانپ لیتی ہے اور مریض کو بھی ڈھانپ لیتی ہے، اور مریض اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوتا ہے جبکہ عیادت کرنے والا اللہ کی قدوسیت (پاکیزہ رحمت) کے سائے میں ہوتا ہے؛ اور اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: "دیکھو، یہ عیادت کرنے والے مریض کے پاس کتنی دیر رکے رہے؟" فرشتے عرض کرتے ہیں: "اے ہمارے رب! ایک فواق (اونٹنی کا دودھ نکالنے کے درمیانی وقفے) کے برابر۔" تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: "میرے اس بندے کے لیے ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دو۔" اور اگر وہ گھڑی بھر رکے رہیں تو اللہ فرماتا ہے: "اس کے لیے ایک زمانہ (کا اجر) لکھ دو۔" اور زمانہ دس ہزار سال کا ہوتا ہے؛ اگر وہ اس (اجر کے ملنے) سے پہلے فوت ہو گیا تو جنت میں داخل ہو گا، اور اگر زندہ رہا تو اس پر ایک بھی گناہ نہیں لکھا جائے گا۔ اور اگر کوئی صبح کے وقت عیادت کرے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اور وہ جنت کے میوہ زاروں میں ہوتا ہے، اور اگر وہ شام کے وقت عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اور وہ جنت کے میوہ زاروں میں ہوتا ہے۔“
حدیث کا پہلا حصہ اپنے معنی کے اعتبار سے صحیح (بخاری و مسلم) میں موجود ہے لیکن اس مکمل سیاق کے ساتھ نہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال سے لے کر آخر تک کے حصے کو نقل کرنے میں عباد بن کثیر اکیلے ہیں جو کہ نہایت ضعیف اور متروک راوی ہیں، اور اس کلام پر وضع (من گھڑت ہونے) کے آثار نمایاں ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2474
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَوَّلُ الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَيْسَ بِسِيَاقِهِ ، وَمِنْ سُؤَالِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى آخِرِهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ وَاهٍ ، وَآثَارُ الْوَضْعِ لَائِحَةٌ عَلَيْهِ . »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 2688، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 936، وأخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 2718، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 7464، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 3487، وأخرجه مسند أحمد برقم: 12231، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 3429، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1399، وأخرجه مسند البزار برقم: 6679، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 465، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 6764، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 29952، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 2048، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 519، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8851»