المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ عيادة المريض باب: مریض کی بیمار پرسی اور عیادت کرنے کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2470
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَرَجَ يُرِيدُ أَخًا مُؤْمِنًا يَعُودُهُ ، خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَيْهِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَ الْمَرِيضِ وَاسْتَوَى جَالِسًا غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ " .ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ جب کوئی شخص اپنے کسی مومن بھائی کی عیادت (بیمار پرسی) کے ارادے سے نکلتا ہے، تو وہ (منزل تک پہنچنے تک) اپنی کمر تک اللہ کی رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے، پھر جب وہ مریض کے پاس پہنچ کر اطمینان سے بیٹھ جاتا ہے، تو رحمتِ الہٰی اسے مکمل طور پر اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔“
اسے امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابو ہشام الرفاعی ضعیف ہیں، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس حدیث کا مضمون درست ہے۔