کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: اس سرزمین میں داخل ہونے کی ممانعت و زجر کا بیان جس میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہو۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ .
2475 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي مُصَنَّفِهِ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ بِالشَّامِ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِالْوَبَاءِ قَدْ رُفِعَ فَاكْتُبُوا إِلَيَّ " ، فَجِئْتُ وَهُوَ نَائِمٌ ، وَذَاكَ بَعْدَ رُجُوعِهِ مِنْ سَرْغٍ ، فَسَمِعْتُهُ لَمَّا قَامَ مِنْ نَوْمَتِهِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي رُجُوعِي إِلَى هُنَا مِنْ سَرْغٍ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شام میں موجود اپنے عمال (گورنروں) کو یہ مکتوب ارسال کیا: ”جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ وبا اٹھا لی گئی ہے تو مجھے اس بارے میں لکھ بھیجنا۔“ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ) پھر میں ان کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب وہ سو رہے تھے، اور یہ تذکرہ ان کی مقامِ ’سرغ‘ سے واپسی کے بعد کا ہے، چنانچہ جب وہ اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو میں نے انہیں یہ التجا کرتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي رُجُوعِي إِلَى هُنَا مِنْ سَرْغٍ» ”اے اللہ! سرغ سے (واپس مڑ کر) یہاں تک آنے پر میری مغفرت فرما۔“
امام اسحاق نے ہمیں ابوعامر العقدی کے واسطے سے ہشام بن سعد سے یہ روایت بتائی، نیز امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں محمد بن بشر، ہشام بن سعد، عروہ اور قاسم بن محمد کے طریق سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2475
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بَعْضَ أَهْلِهِ ، فَقَالَ : وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مُوتَانٌ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ .
الْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ .
ترجمہ
سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو وصیت فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور اگر لوگوں میں کوئی ایسی وبا یا عام موت کی صورتِ حال پیدا ہو جائے جس میں کثرت سے ہلاکتیں ہوں اور تم بھی ان میں موجود ہو تو وہاں ثابت قدم رہنا۔“
یہ حدیث منقطع ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2476
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: الْحَدِيثُ مُنْقَطِعٌ . »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 14895، وأخرجه مسند أحمد برقم: 28007، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1594، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1758 / 2»