المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ عيادة المريض باب: مریض کی بیمار پرسی اور عیادت کرنے کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2472
قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَا يَزَالُ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ ، حَتَّى إِذَا قَعَدَ اسْتَنْقَعَ فِيهَا " .
زَادَ عَبْدٌ : " ثُمَّ إِذَا رَجَعَ لَا يَزَالُ يَخُوضُ فِيهَا حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ جَاءَ " .ترجمہ
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت و تیمارداری کے لیے جاتا ہے تو وہ (جانے کے دوران) مسلسل اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو اس رحمت میں پوری طرح غرق ہو جاتا ہے (گویا رحمتِ الہٰی اسے ڈھانپ لیتی ہے)۔“
امام عبد بن حمید نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جب وہ عیادت کے بعد واپس لوٹتا ہے تو وہ اپنے گھر پہنچنے تک مسلسل اسی طرح رحمتِ الہٰی میں غوطہ زن رہتا ہے جہاں سے وہ (عیادت کے لیے) روانہ ہوا تھا۔“