❮
❯
حدیث نمبر: 2472
قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَا يَزَالُ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ ، حَتَّى إِذَا قَعَدَ اسْتَنْقَعَ فِيهَا " .
زَادَ عَبْدٌ : " ثُمَّ إِذَا رَجَعَ لَا يَزَالُ يَخُوضُ فِيهَا حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ جَاءَ " .
ترجمہ

سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت و تیمارداری کے لیے جاتا ہے تو وہ (جانے کے دوران) مسلسل اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو اس رحمت میں پوری طرح غرق ہو جاتا ہے (گویا رحمتِ الہٰی اسے ڈھانپ لیتی ہے)۔“
امام عبد بن حمید نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جب وہ عیادت کے بعد واپس لوٹتا ہے تو وہ اپنے گھر پہنچنے تک مسلسل اسی طرح رحمتِ الہٰی میں غوطہ زن رہتا ہے جہاں سے وہ (عیادت کے لیے) روانہ ہوا تھا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2472
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف مرسل »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 15370، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 907، 5292، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3154، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 7758، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 1136»