المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ عيادة المريض باب: مریض کی بیمار پرسی اور عیادت کرنے کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : إِنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَتَعُودُ الْحَسَنَ وَفِي نَفْسِكَ مَا فِيهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : لَسْتَ بِرَبِّي تَصْرِفُ قَلْبِي حَيْثُ شِئْتَ ، قَالَ : أَمَّا ذَاكَ فَلَا يَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ إِلَّا ابْتَعَثَ اللهُ تَعَالَى لَهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ ... الْحَدِيثَ " .
2469 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهِ .عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن حریث نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی بیمار پرسی کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا: ”کیا تم حسن کی عیادت کر رہے ہو حالانکہ تمہارے دل میں (ہمارے متعلق) وہ سب کچھ (بغض و عناد) موجود ہے جو موجود ہے؟“ اس پر عمرو نے انہیں جواب دیا: ”آپ میرے پروردگار نہیں ہیں کہ میرے دل کو جہاں چاہیں پھیر دیں“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بہرصورت، یہ بات ہمیں اس سے نہیں روکتی کہ ہم تمہاری خیر خواہی کریں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو مسلمان بھی اپنے کسی (مسلمان) بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے روانہ کر دیتا ہے...“ (مکمل حدیث)۔
امام احمد بن منیع نے اسے یزید سے اور امام حارث نے اسے عفان سے، دونوں نے حماد بن سلمہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔