❮
❯
حدیث نمبر: 2474
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَقَدَ الرَّجُلَ مِنْ إِخْوَانِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ كَانَ غَائِبًا دَعَا لَهُ ، وَإِنْ كَانَ شَاهِدًا زَارَهُ ، وَإِنْ كَانَ مَرِيضًا عَادَهُ ، فَفَقَدَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، تَرَكْنَاهُ مِثْلَ الْفَرْخِ ، لَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِهِ شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ : عُودُوا أَخَاكُمْ ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُودُهُ ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا دَخَلْنَا إِذَا هُوَ كَمَا وُصِفَ لَنَا ، فَقَالَ : كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ قَالَ : لَا يَدْخُلُ شَيْءٌ فِي رَأْسِي إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِي ، قَالَ : وَمِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّيْتُ مَعَكَ ، وَأَنْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ : الْقَارِعَةُ مَا الْقَارِعَةُ إِلَى آخِرِهَا ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ مَا كَانَ لِي مِنْ ذَنْبٍ أَنْتَ مُعَذِّبِي عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْ لِي عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا ، فَتَرَانِي كَمَا تَرَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَبِئْسَ مَا قُلْتَ ، أَلَا سَأَلْتَ اللهَ تَعَالَى أَنْ يُؤْتِيَكَ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَأَنْ يَقِيَكَ عَذَابَ النَّارِ ، قَالَ : فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِذَلِكَ ، وَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَامَ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ ، فَلَمَّا خَرَجْنَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، حَضَضْتَنَا آنِفًا عَلَى عِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، فَمَا لَنَا فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ يَعُودُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَيْهِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، وَغَمَرَتِ الْمَرِيضَ الرَّحْمَةُ ، وَكَانَ الْمَرِيضُ فِي ظِلِّ عَرْشِ اللهِ تَعَالَى ، وَكَانَ الْعَائِدُ فِي ظِلِّ قُدْسِهِ ، وَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ : " انْظُرُوا كَمِ احْتُبِسُوا عِنْدَ الْمَرِيضِ الْعُوَّادُ " ، قَالَ : يَقُولُونَ : أَيُّ رَبِّ ، فُوَاقًا - إِنْ كَانَ فُوَاقًا - فَيَقُولُ لِمَلَائِكَتِهِ : " اكْتُبُوا لِعَبْدِي عِبَادَةَ أَلْفِ سَنَةٍ " فَإِنْ كَانَ احْتُبِسُوا سَاعَةً ، يَقُولُ : " اكْتُبُوا لَهُ دَهْرًا " وَالدَّهْرُ عَشَرَةُ آلَافِ سَنَةٍ ، إِنْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ عَاشَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِنْ كَانَ صَبَاحًا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَكَانَ فِي خُرَافَةِ الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ ، وَكَانَ فِي خُرَافَةِ الْجَنَّةِ .
2474 \ 2 - حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَعُودُهُ فَذَكَرَهُ ... وَزَادَ : فَقَالَهَا ، فَعُوفِيَ .
قُلْتُ : أَوَّلُ الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَيْسَ بِسِيَاقِهِ ، وَمِنْ سُؤَالِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى آخِرِهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ وَاهٍ ، وَآثَارُ الْوَضْعِ لَائِحَةٌ عَلَيْهِ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بھائیوں میں سے کسی کو تین دن تک نہ پاتے تو اس کے متعلق دریافت فرماتے؛ اگر وہ غائب (سفر پر) ہوتا تو اس کے لیے دعا فرماتے، اگر وہ شہر میں موجود ہوتا تو اس کی زیارت فرماتے اور اگر وہ بیمار ہوتا تو اس کی عیادت فرماتے۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے ایک شخص کو (مجلس میں) نہ پایا تو تیسرے دن اس کے بارے میں دریافت فرمایا، تو عرض کیا گیا: "اے اللہ کے رسول! ہم اسے پرندے کے ایک (انتہائی کمزور) چوزے کی مانند چھوڑ کر آئے ہیں، جو کچھ اس کے حلق سے نیچے اترتا ہے وہ فوراً ہی خارج ہو جاتا ہے (یعنی اس کے پیٹ میں کچھ نہیں ٹھہرتا)۔" پس نبی کریم ﷺ نے اپنے بعض صحابہ سے فرمایا: ”اپنے بھائی کی عیادت (تیمار داری) کرو۔“ چنانچہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس کی عیادت کے لیے نکلے اور اس جماعت میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے۔ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اسے ویسے ہی (خستہ حال) پایا جیسا ہمیں بتایا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم خود کو کیسا پاتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: "میرے حلق سے جو چیز بھی نیچے اترتی ہے وہ اسی وقت (پاخانہ کے راستے) نکل جاتی ہے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ (حال) کس وجہ سے ہوا؟“ اس نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! میرا آپ کے پاس سے گزر ہوا جبکہ آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، میں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ یہ سورت ﴿الْقَارِعَةُ ۝ مَا الْقَارِعَةُ﴾ [سورة القارعة: 1-2] آخر تک تلاوت فرما رہے تھے، تو (خوفِ آخرت کے سبب) میں نے یہ دعا مانگی: «اللَّهُمَّ مَا كَانَ لِي مِنْ ذَنْبٍ أَنْتَ مُعَذِّبِي عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْ لِي عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا» ”اے اللہ! میرے جو گناہ ایسے ہیں جن پر تو مجھے آخرت میں سزا دینے والا ہے، ان کی سزا مجھے دنیا ہی میں جلد دے دے۔“ تو اب آپ مجھے اسی حال میں دیکھ رہے ہیں جس میں میں ہوں۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بہت ہی بری بات کہی! تم نے اللہ تعالیٰ سے یہ کیوں نہ مانگا کہ وہ تمہیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کرے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرمائے اور تمہیں آگ کے عذاب سے بچائے؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ نے اسے حکم دیا تو اس نے یہی دعا کی اور نبی کریم ﷺ نے بھی اس کے لیے دعا فرمائی، تو وہ شخص فوراً ایسے کھڑا ہو گیا جیسے کوئی جانور رسی سے کھل کر چست و توانا ہو جاتا ہے۔ جب ہم وہاں سے نکلے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! ابھی آپ نے ہمیں مریض کی عیادت پر ابھارا ہے، تو اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟" رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک جب کوئی مسلمان شخص اپنے گھر سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے نکلتا ہے تو وہ اپنے کولہوں تک اللہ کی رحمت میں غوطہ زن ہو جاتا ہے، پھر جب وہ مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو رحمت اسے بھی ڈھانپ لیتی ہے اور مریض کو بھی ڈھانپ لیتی ہے، اور مریض اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوتا ہے جبکہ عیادت کرنے والا اللہ کی قدوسیت (پاکیزہ رحمت) کے سائے میں ہوتا ہے؛ اور اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: "دیکھو، یہ عیادت کرنے والے مریض کے پاس کتنی دیر رکے رہے؟" فرشتے عرض کرتے ہیں: "اے ہمارے رب! ایک فواق (اونٹنی کا دودھ نکالنے کے درمیانی وقفے) کے برابر۔" تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: "میرے اس بندے کے لیے ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھ دو۔" اور اگر وہ گھڑی بھر رکے رہیں تو اللہ فرماتا ہے: "اس کے لیے ایک زمانہ (کا اجر) لکھ دو۔" اور زمانہ دس ہزار سال کا ہوتا ہے؛ اگر وہ اس (اجر کے ملنے) سے پہلے فوت ہو گیا تو جنت میں داخل ہو گا، اور اگر زندہ رہا تو اس پر ایک بھی گناہ نہیں لکھا جائے گا۔ اور اگر کوئی صبح کے وقت عیادت کرے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اور وہ جنت کے میوہ زاروں میں ہوتا ہے، اور اگر وہ شام کے وقت عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اور وہ جنت کے میوہ زاروں میں ہوتا ہے۔“
حدیث کا پہلا حصہ اپنے معنی کے اعتبار سے صحیح (بخاری و مسلم) میں موجود ہے لیکن اس مکمل سیاق کے ساتھ نہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سوال سے لے کر آخر تک کے حصے کو نقل کرنے میں عباد بن کثیر اکیلے ہیں جو کہ نہایت ضعیف اور متروک راوی ہیں، اور اس کلام پر وضع (من گھڑت ہونے) کے آثار نمایاں ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطب / حدیث: 2474
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: أَوَّلُ الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَيْسَ بِسِيَاقِهِ ، وَمِنْ سُؤَالِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى آخِرِهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ وَاهٍ ، وَآثَارُ الْوَضْعِ لَائِحَةٌ عَلَيْهِ . »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 2688، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 936، وأخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 2718، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 7464، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 3487، وأخرجه مسند أحمد برقم: 12231، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 3429، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1399، وأخرجه مسند البزار برقم: 6679، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 465، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 6764، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 29952، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 2048، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 519، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8851»