المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ عيادة المريض باب: مریض کی بیمار پرسی اور عیادت کرنے کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَفِيهِ : " وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا فَلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَنْزِلِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ ، وَمَحْوُ سَبْعِينَ أَلْفَ سَيِّئَةٍ ، وَرَفْعُ سَبْعِينَ أَلْفَ دَرَجَةٍ ، وَيُوَكَّلُ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَعُودُونَهُ وَيَسْتَغْفِرُونَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ قَامَ عَلَى مَرِيضٍ يَوْمًا وَلَيْلَةً بَعَثَهُ اللهُ تَعَالَى مَعَ خَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، حَتَّى يَجُوزَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ اللَّامِعِ ، وَمَنْ سَعَى لِمَرِيضٍ فِي حَاجَةٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : فَإِنْ كَانَ الْمَرِيضُ قَرَابَتَهُ أَوْ بَعْضَ أَهْلِهِ ؟ قَالَ : " وَمَنْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِمَّنْ يَسْعَى فِي حَاجَةِ أَهْلِهِ ؟ " .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں یہ (الفاظ بھی) تھے: ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے، تو اس کے ہر اس قدم کے بدلے جو وہ اٹھاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس لوٹ آئے، اس کے لیے ستر ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، ستر ہزار برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور ستر ہزار درجات بلند کر دیے جاتے ہیں؛ نیز اس پر ستر ہزار فرشتے مقرر کر دیے جاتے ہیں جو اس کی زیارت کرتے ہیں اور روزِ قیامت تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ اور جو شخص کسی مریض کی (تیمار داری کے لیے) ایک دن اور ایک رات قیام کرے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محشور فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ پل صراط سے کوندتی بجلی کی طرح گزر جائے گا۔ اور جو شخص کسی مریض کی کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تگ و دو کرے، تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے وہ اس دن (پاک و صاف) تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔“ اس پر انصار کے ایک شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! اگر وہ مریض اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا گھر کا فرد ہو (تب بھی یہی فضیلت ہے)؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بھلا اس شخص سے بڑھ کر اجر کا مستحق اور کون ہو سکتا ہے جو اپنے اہل و عیال کی ضروریات کی تکمیل کے لیے تگ و دو کرے؟“
یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔