❮
❯
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِهِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَرَأَيْتُ مَسِيحَ الضَّلَالَةِ ، وَرَأَيْتُ رَجُلَيْنِ يَتَلَاحَيَانِ ، فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا ، فَأُنْسِيتُهُمَا . فَأَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَاطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ ، فَرَجُلٌ أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، عَرِيضُ النَّحْرِ ، فِيهِ دَمًا ، كَأَنَّهُ فُلَانُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى ، أَوْ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ فُلَانٍ .
ترجمہ
سیدنا الفلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مجھے شبِ قدر دکھائی گئی تھی، پھر مجھے وہ بھلا دی گئی، اور میں نے گمراہی کے مسیح (دجال) کو بھی دیکھا، نیز میں نے دو آدمیوں کو آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان کے درمیان بیچ بچاؤ کرایا، پس مجھے ان (دونوں باتوں کی متعین تفصیل) سے غافل کر دیا گیا۔ بہرحال تم شبِ قدر کو (رمضان کے) آخری عشرے میں تلاش کرو، اور رہا گمراہی کا مسیح، تو وہ ایک کشادہ پیشانی والا شخص ہے جس کی بائیں آنکھ سپاٹ (بے نور) ہے، اس کا سینہ چوڑا ہے اور اس کی رنگت میں سرخی کا غلبہ ہے (جیسے بدن میں خون جھلک رہا ہو)، وہ دیکھنے میں بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے فلاں بن عبدالعزیٰ یا عبدالعزیٰ بن فلاں ہو۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1115
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4457»
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْفَلَتَانِ ، مُخْتَصَرًا : مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُلْتَمِسًا لَيْلَةَ الْقَدْرِ ، فَلْيَلْتَمِسْهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ .
ترجمہ
سیدنا فلتان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص شبِ قدر کی تلاش میں ہو، اسے چاہیے کہ وہ اسے (رمضان المبارک کے) آخری عشرے میں تلاش کرے۔“
اس حدیثِ مبارکہ کو یہاں اختصار کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1115
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4457»
قَالَ أَبِي : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : وَمَا أَعْجَبَكَ مِنْ ذَلِكَ ، كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا دُعِيَ الْأَشْيَاخُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي مَعَهُمْ ، وَقَالَ : لَا تَتَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا ، فَدَعَانَا ذَاتَ يَوْمٍ ، أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مَا قَدْ عَلِمْتُمُ : الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا . أَيُّ الْوِتْرِ هِيَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ : تَاسِعَةٌ ، سَابِعَةٌ ، خَامِسَةٌ ، ثَالِثَةٌ . فَقَالَ لِي : مَا لَكَ لَا تَتَكَلَّمُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ شِئْتَ تَكَلَّمْتُ ، فَقَالَ : مَا دَعَوْتُكَ إِلَّا لِتَتَكَلَّمَ . قَالَ : إِنَّمَا أَقُولُ بِرَأْيِي ، قَالَ : عَنْ رَأْيِكَ أَسْأَلُ . فَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ اللهَ تَعَالَى أَكْثَرَ ذِكْرَ السَّبْعِ ، فَذَكَرَ السَّمَاوَاتِ سَبْعًا ، وَالْأَرَضِينَ سَبْعًا ، حَتَّى قَالَ فِيمَا قَالَ : وَمَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ سَبْعًا ، فَقَالَ : كُلُّ مَا قَدْ قُلْتَ عَرَفْتُهُ غَيْرَ هَذَا ، مَا تَعْنِي بِقَوْلِكَ : وَمَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ سَبْعًا ؟ فَقَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : ثُمَّ شَقَقْنَا الأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا مَتَاعًا لَكُمْ ، فَالْحَدَائِقُ كُلُّ مُلْتَفٍّ حَدِيقَةٌ ، وَالْأَبُّ مَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ مِمَّا لَا يَأْكُلُ النَّاسُ . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَقُولُوا مِثْلَ مَا قَالَ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي لَمْ يَسْتَوِ سِوَى رَأْسِهِ . ثُمَّ قَالَ لِي : إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ مَعَهُمْ ، فَإِذَا دَعَوْتُكَ ، فَتَكَلَّمْ مَعَهُمْ .
قُلْتُ : رَوَى أَحْمَدُ حَدِيثَ عُمَرَ الْمَرْفُوعَ مِنْهُ حَسْبُ .
ترجمہ
میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے فرمایا: تمہیں اس پر کیا حیرت ہے؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ طریقہ تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے بڑے بزرگوں کو بلاتے تو مجھے بھی ان کے ہمراہ دعوت دیتے اور فرماتے کہ جب تک یہ لوگ کلام نہ کریں تم خاموش رہنا، پھر ایک دن یا رات انہوں نے ہمیں بلایا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے شبِ قدر کے بارے میں وہ بات فرمائی ہے جو تم جانتے ہو کہ ”اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو“، تو وہ کون سی طاق رات ہے؟ اس پر ایک شخص نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ وہ نویں، ساتویں، پانچویں یا تیسری رات ہے، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس! تم کیوں نہیں بولتے؟ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں بات کروں، انہوں نے فرمایا: میں نے تمہیں بلایا ہی اس لیے ہے کہ تم بولو، میں نے عرض کیا کہ میں اپنی رائے پیش کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا: میں تمہاری رائے ہی جاننا چاہتا ہوں، میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے کلام میں دیکھا ہے کہ اس نے سات کے عدد کا تذکرہ کثرت سے فرمایا ہے، چنانچہ اس نے سات آسمان اور سات زمینیں پیدا کیں، حتیٰ کہ اپنے کلام میں یہ بھی فرمایا کہ زمین نے سات قسم کی چیزیں اگائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری بقیہ باتیں تو میں سمجھ گیا لیکن تمہاری اس بات کا کیا مطلب ہے کہ زمین نے سات چیزیں اگائیں؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ شَقَقْنَا الأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا مَتَاعًا لَكُمْ﴾ (سورہ عبس: ۲۶-۳۲) یعنی ”پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑ ڈالا، پھر ہم نے اس میں غلہ اگایا، اور انگور اور چارہ، اور زیتون اور کھجوریں، اور گھنے باغات، اور میوے اور گھاس، تمہارے فائدے کے لیے“، چنانچہ 'حدائق' سے مراد ہر وہ باغ ہے جس کے درخت گنجان ہوں اور 'اَبّ' وہ نباتیات ہیں جو زمین اگاتی ہے اور جنہیں انسان نہیں کھاتے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (صحابہ سے) فرمایا: کیا تم لوگ اس نوجوان جیسی بات کہنے سے بھی عاجز آگئے ہو جس کے سر کے بال بھی ابھی برابر نہیں ہوئے؟ پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے تمہیں ان بزرگوں کے سامنے بولنے سے منع کیا تھا لیکن اب جب میں تمہیں بلاؤں تو تم ان کے سامنے ضرور کلام کیا کرو۔
میں کہتا ہوں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس میں سے صرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ہی روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2172، وأخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 166، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 1603، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8650، وأخرجه مسند أحمد برقم: 86، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 165، وأخرجه مسند البزار برقم: 210، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7679، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8761، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 4637، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 5686، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10618»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، أَفِي رَمَضَانَ أَمْ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ فِي رَمَضَانَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَهِيَ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا ، فَإِذَا قُبِضَ الْأَنْبِيَاءُ رُفِعَتْ ، أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَخْبِرْنِي فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي ، فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ ؟ ، فَغَضِبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ غَضَبًا مَا غَضِبَ عَلَيَّ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ شَاءَ اللهُ لَأَطْلَعَكَ عَلَيْهَا ، الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا .
ترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے شاگرد مرثد کے والد نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو شبِ قدر کا تذکرہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے (بارگاہِ رسالت میں) عرض کیا تھا: یا رسول اللہ! مجھے شبِ قدر کے متعلق آگاہ فرمائیے کہ کیا یہ رمضان میں ہوتی ہے یا غیر رمضان میں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ یہ رمضان ہی میں ہوتی ہے“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فضیلت صرف انبیاء کی موجودگی تک ہے کہ جب انبیاء دنیا سے تشریف لے جائیں تو یہ بھی اٹھا لی جائے گی، یا یہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ قیامت کے دن تک (ہر سال) رہے گی“، میں نے پھر دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ یہ رمضان کے کس حصے میں ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رمضان کی آخری دس راتوں میں، اب اس کے بعد مجھ سے (اس متعلق) کچھ نہ پوچھنا“، میں نے (دوبارہ اشتیاق میں) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو اس حق کا واسطہ دیتا ہوں جو میرا آپ پر ہے، مجھے بتا دیں کہ وہ ان دس راتوں میں سے کون سی رات ہے؟ اس پر آپ ﷺ مجھ پر اس قدر جلال میں آئے کہ ویسا غصہ آپ ﷺ نے مجھ پر نہ اس سے پہلے کبھی فرمایا تھا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی ویسا غصہ فرمایا، اور ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ چاہتا تو تمہیں اس کی قطعی اطلاع دے دیتا، تم اسے (رمضان کی) آخری سات راتوں میں تلاش کرو اور اب مجھ سے اس بارے میں مزید کچھ نہ پوچھنا“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1117
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 20988، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1638، 4013، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2170، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 4617، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3683، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 3641، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 8881، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2369/1، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 1398»
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مَرْثَدٍ أَوِ ابْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَسُئِلَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ : الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
قُلْتُ : هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي زُمَيْلٍ أَيْضًا ، وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ .
1117 \ 3 - وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَخْبِرْنَا بِهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أُذِنَ لِي فِيهَا لَأَخْبَرْتُكُمْ بِهَا .
1117 \ 4 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ مَرْثَدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي مَرْثَدٌ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے شاگرد مرثد (یا ابنِ مرثد) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے اس کا تذکرہ (سابقہ روایت کی طرح) فرمایا یہاں تک کہ ”آخری عشرہ“ کے الفاظ تک پہنچے اور اس کے مابعد کا ذکر نہیں کیا۔
میں کہتا ہوں کہ یہ سند حسن صحیح ہے، اور اسے امام احمد اور امام نسائی نے بھی ابوزمیل کی حدیث سے روایت کیا ہے مگر وہ مکمل نہیں ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ مروی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس (رات) کے بارے میں بتائیے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اس کے متعلق (تمہیں) خبر دینے کی اجازت دی جاتی تو میں تمہیں اس سے ضرور آگاہ کر دیتا۔“
امام مسدد نے بھی اپنی سند کے ساتھ مالک بن مرثد سے، انہوں نے اپنے والد مرثد سے روایت کی کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، پھر انہوں نے اسی کی مثل حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1117
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 20988، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1638، 4013، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2170، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 4617، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3683، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 3641، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 8881، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2369/1، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 1398»
وقال إسحاق : أخبرنا عبدة بن سليمان ، ثنا محمد بن إسحاق ، عن محمد بن إبراهيم التيمي ، عن أبي حازم مولى هذيل قال : جاورت في مسجد المدينة مع رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم من بني بياضة في العشر الأواخر من رمضان في قبة له يستر على بابها بقطعة حصير ، قال : فبينما نحن في المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة له ، إذ رفع الحصير عن الباب ، وأشار إلى من في المسجد : أن اجتمعوا ، فاجتمعنا ، فوعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم موعظة لم أسمع واعظا مثلها ، فقال : إن أحدكم إذا قام يصلي ، فإنه يناجي ربه تبارك وتعالى ، فلينظر بم يناجيه ، ولا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن . ثم رد الحصير ورجع كل واحد منا إلى موضعه . فقال بعضنا لبعض : إن لهذه الليلة لشأنا ، وعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها ، فإذا هي ليلة ثلاث وعشرين .
. 1118 \ 2 - وَقَدْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ فِي الِاعْتِكَافِ مِنْ طُرُقٍ أَكْثَرُهَا مِنْ رِوَايَةِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْبَيَاضِيِّ .
1118 \ 3 - وَرَوَى الْإِمَامُ أَحْمَدُ قِصَّةَ النَّهْيِ عَنِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ مِنْ طَرِيقِ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْبَيَاضِيِّ .
وَاخْتُلِفَ فِي أَبِي حَازِمٍ هَذَا ، فَفِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ أَنَّهُ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ ، وَاسْمُهُ دِينَارٌ ، وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ ، أَنَّهُ مَوْلَى بَنِي هُذَيْلٍ .
وَاللهُ أَعْلَمُ .
ترجمہ
میں کہتا ہوں کہ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے اسے بنو ہذیل کے آزاد کردہ غلام ابو حازم کی مسند میں ذکر کیا ہے، اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے کتاب الاعتکاف میں کئی اسناد سے روایت کیا ہے جن میں سے اکثر روایتیں ابو حازم کی سیدنا بیاضی رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ نے (نماز میں) بلند آواز سے قرأت کی ممانعت کا قصہ امام مالک رحمہ اللہ کے طریق سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید، انہوں نے محمد بن ابراہیم اور انہوں نے ابو حازم کے واسطے سے سیدنا بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
ان راوی ابو حازم کی پہچان کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ چنانچہ اکثر روایات میں یہ صراحت ہے کہ وہ بنو غفار کے آزاد کردہ غلام ہیں اور ان کا نام دینار ہے، جبکہ اس مخصوص روایت میں انہیں بنو ہذیل کا آزاد کردہ غلام بتایا گیا ہے، اور حقیقت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه موطأ مالك برقم: 264 / 76، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 3348، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 4779، وأخرجه مسند أحمد برقم: 19327، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 4217»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ دَاوُدَ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، وَزِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ .
ترجمہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (لیلۃ القدر کی تعیین کے حوالے سے) فرمایا: ”شبِ قدر ستائیسویں رات ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1119
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن، وله أصل صحيح. »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 762، وأخرجه المنتقى لابن الجارود برقم: 446، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2187، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3690، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 5357، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 3392، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1378، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 793، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8644، وأخرجه مسند أحمد برقم: 21581، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 544، وأخرجه مسند الحميدي برقم: 379، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 163، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7700، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8759، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 4645، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 527، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1123»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ حَوْطٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعَ عَشْرَةَ : يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ، فَمَا أَشُكُّ ، وَلَا اسْتُثْنِيَ .
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”لیلتہ القدر (رمضان کی) سترہویں رات ہے؛ یہ وہی ﴿يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾ ”جس دن حق و باطل کا فیصلہ ہوا، جس دن (مومنوں اور کافروں کی) دونوں جماعتیں آمنے سامنے آئیں“ (سورہ الانفال: 41) والا دن ہے، مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور نہ ہی میں اس میں کسی قسم کا استثنا (یعنی شک و شبہ کی گنجائش) برتتا ہوں۔“
اس اثر سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے وقوع کی مناسبت سے سترہ رمضان کی شب کو لیلتہ القدر قرار دیتے تھے اور اس پر پختہ یقین رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1120
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 9624، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 5079»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ ، يَقُولُ : كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي لَقِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِهَا أَهْلَ بَدْرٍ . قَالَ : يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا أَنْـزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ . قَالَ جَعْفَرٌ : بَلَغَنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سِتَّ عَشْرَةَ ، أَوْ سَبْعَ عَشْرَةَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ (اس رات کے متعلق) فرمایا کرتے تھے: ”یہ وہ عظیم رات ہے جس کے اگلے دن رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ اہل بدر سے ہوا تھا“؛ اسی کے متعلق اللہ عزوجل کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ﴾ یعنی: ”اور اس (وحی و نصرت) پر ایمان لاؤ جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی، جس دن دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے“ (سورہ الانفال: 41)
امام جعفر بن برقان بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ رمضان المبارک کی سولہویں یا سترہویں رات تھی۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1121
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَأَيْتُ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ كَأَنَّهُ شِقُّ جَفْنَةٍ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے لیلۃ القدر میں چاند کو دیکھا تو وہ اس طرح نظر آ رہا تھا گویا وہ کسی بڑے پیالے (لگن) کا ایک ٹکڑا ہو۔“
امام ابویعلیٰ نے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جس میں لیلۃ القدر کی ایک حسی نشانی کے طور پر چاند کی اس مخصوص ہیئت کا تذکرہ ہے جو اس مبارک رات کے مشاہدے میں آتی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 795، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4428، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2377»
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، أُخْبِرْتُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ، وَقَدْ أُخْبِرْنَا بِهِ ، فَسَمِعَ لَغَطًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَاخْتُلِسَتْ مِنْهُ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات اس ارادے سے باہر تشریف لائے کہ ہمیں لیلۃ القدر کی (متعین تاریخ کی) خبر دیں، جبکہ ہمیں اس کے بارے میں بتایا جا چکا تھا، پھر آپ ﷺ نے مسجد میں شور و غل اور تکرار کی آواز سنی تو وہ علم آپ ﷺ (کے حافظہ مبارک) سے اٹھا لیا گیا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1123
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 22214، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1781، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8182، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4448، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2378»
وَقَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، ثَنَا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ الْجُهَنِيَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَحْنُ غَيْبٌ قَدْ عَلِمْتَ ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَحْضُرَ هَذَا الشَّهْرَ ، فَأَخْبِرْنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذِهِ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، وَهِيَ لِثَمَانٍ يَبْقَيْنَ ؟ قَالَ : كَلَّا ، هَذَا الشَّهْرُ يَنْقُصُ ، وَهِيَ لِسَبْعٍ يَبْقَيْنَ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کے ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم دور دراز بستیوں میں رہنے والے لوگ ہیں جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، اور ہم اس پورے مہینے (مدینہ منورہ میں) حاضر رہنے کی استطاعت نہیں رکھتے، لہٰذا آپ ہمیں شبِ قدر کے بارے میں مطلع فرما دیجیے؟ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ تئیسویں رات ہے جب کہ (مہینہ ختم ہونے میں) آٹھ راتیں باقی رہ جاتی ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسا نہیں ہے، یہ مہینہ کم بھی ہو جاتا ہے (یعنی کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے)، اور وہ (شبِ قدر) تو وہ رات ہے جب سات راتیں باقی رہ جائیں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1124
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه الأحاديث المختارة برقم: 2601، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2379»