❮
❯
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ شُرَيْحًا عَنِ امْرَأَةٍ نَذَرَتْ أَنْ تَعْتَكِفَ رَجَبَ ذَلِكَ الْعَامِ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : وَكَانَ زِيَادٌ أَوِ ابْنُ زِيَادٍ نَهَى النِّسَاءَ أَنْ يَعْتَكِفْنَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ : فَقَالَ شُرَيْحٌ : إِنِّي لَا أَقُولُ إِنَّهُ فِي كِتَابٍ مُنَزَّلٍ ، وَلَا فِي سُنَّةٍ مَاضِيَةٍ ، إِنَّمَا هُوَ رَأْيٌ ; تَصُومُ رَجَبَ ذَلِكَ الْعَامِ ، فَإِذَا أَفْطَرَتْ أَفْطَرَ مَعَهَا كُلُّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ ، أَوْ أَطْعَمَتْ كُلَّ لَيْلَةٍ مِسْكِينًا ، نُسُكَانِ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ ، يَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَاءُ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى شُرَيْحٍ .
ترجمہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے قاضی شریح رحمہ اللہ سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے اس مخصوص سال کے ماہِ رجب میں مسجد کے اندر اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی، جبکہ صورتحال یہ تھی کہ زیاد یا ابنِ زیاد نے عورتوں کو مسجد میں اعتکاف کرنے سے روک دیا تھا، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ممانعت اللہ کی نازل کردہ کسی کتاب میں ہے اور نہ ہی یہ کسی گزشتہ سنتِ ثابتہ میں مذکور ہے، بلکہ یہ تو محض ایک (انتظامی) رائے ہے؛ وہ عورت اس سال رجب کے روزے رکھے اور جب وہ روزہ افطار کرے تو ہر روز ایک مسکین اس کے ساتھ مل کر کھانا کھائے، یا وہ ہر رات ایک مسکین کو کھانا کھلا دے، اس طرح ایک نذر کے بدلے دو عبادتیں (روزہ اور صدقہ) ادا ہو جائیں گی، اور حقیقت یہی ہے کہ ﴿يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ (سورۃ ابراہیم: ۲۷) یعنی اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے“۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے قول پر موقوف ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى شُرَيْحٍ . »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 8040»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا النَّضْرُ هُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، أَنَّ صَفِيَّةَ اعْتَكَفَتْ ، فَمَرِضَ بَعْضُ أَهْلِهَا ، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعُودَهُ ، فَقَالَ : خُذِي بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ وَلَا تَدْخُلِي .
هَذَا مُرْسَلٌ ، أَوْ مُعْضَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
ترجمہ
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اعتکاف کی حالت میں تھیں کہ ان کے گھر والوں میں سے کوئی شخص بیمار ہو گیا، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کی تیمار داری کرنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم (باہر ہی سے) دروازے کی دونوں چوکھٹوں کو تھام لو اور اندر داخل نہ ہونا۔“
یہ روایت مرسل یا معضل ہے، البتہ اس کے تمام راوی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، معضل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مُرْسَلٌ ، أَوْ مُعْضَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»