❮
❯
حدیث نمبر: 1117
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، أَفِي رَمَضَانَ أَمْ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ فِي رَمَضَانَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَهِيَ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا ، فَإِذَا قُبِضَ الْأَنْبِيَاءُ رُفِعَتْ ، أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَخْبِرْنِي فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي ، فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ ؟ ، فَغَضِبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ غَضَبًا مَا غَضِبَ عَلَيَّ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ شَاءَ اللهُ لَأَطْلَعَكَ عَلَيْهَا ، الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا .
ترجمہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے شاگرد مرثد کے والد نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو شبِ قدر کا تذکرہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے (بارگاہِ رسالت میں) عرض کیا تھا: یا رسول اللہ! مجھے شبِ قدر کے متعلق آگاہ فرمائیے کہ کیا یہ رمضان میں ہوتی ہے یا غیر رمضان میں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ یہ رمضان ہی میں ہوتی ہے“، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فضیلت صرف انبیاء کی موجودگی تک ہے کہ جب انبیاء دنیا سے تشریف لے جائیں تو یہ بھی اٹھا لی جائے گی، یا یہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ قیامت کے دن تک (ہر سال) رہے گی“، میں نے پھر دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ یہ رمضان کے کس حصے میں ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رمضان کی آخری دس راتوں میں، اب اس کے بعد مجھ سے (اس متعلق) کچھ نہ پوچھنا“، میں نے (دوبارہ اشتیاق میں) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو اس حق کا واسطہ دیتا ہوں جو میرا آپ پر ہے، مجھے بتا دیں کہ وہ ان دس راتوں میں سے کون سی رات ہے؟ اس پر آپ ﷺ مجھ پر اس قدر جلال میں آئے کہ ویسا غصہ آپ ﷺ نے مجھ پر نہ اس سے پہلے کبھی فرمایا تھا اور نہ ہی اس کے بعد کبھی ویسا غصہ فرمایا، اور ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ چاہتا تو تمہیں اس کی قطعی اطلاع دے دیتا، تم اسے (رمضان کی) آخری سات راتوں میں تلاش کرو اور اب مجھ سے اس بارے میں مزید کچھ نہ پوچھنا“۔

قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مَرْثَدٍ أَوِ ابْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَسُئِلَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ : الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
قُلْتُ : هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالنَّسَائِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي زُمَيْلٍ أَيْضًا ، وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ .
1117 \ 3 - وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَأَخْبِرْنَا بِهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أُذِنَ لِي فِيهَا لَأَخْبَرْتُكُمْ بِهَا .
1117 \ 4 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ مَرْثَدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي مَرْثَدٌ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ترجمہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے شاگرد مرثد (یا ابنِ مرثد) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے اس کا تذکرہ (سابقہ روایت کی طرح) فرمایا یہاں تک کہ ”آخری عشرہ“ کے الفاظ تک پہنچے اور اس کے مابعد کا ذکر نہیں کیا۔
میں کہتا ہوں کہ یہ سند حسن صحیح ہے، اور اسے امام احمد اور امام نسائی نے بھی ابوزمیل کی حدیث سے روایت کیا ہے مگر وہ مکمل نہیں ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں یہ اضافہ مروی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس (رات) کے بارے میں بتائیے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اس کے متعلق (تمہیں) خبر دینے کی اجازت دی جاتی تو میں تمہیں اس سے ضرور آگاہ کر دیتا۔“
امام مسدد نے بھی اپنی سند کے ساتھ مالک بن مرثد سے، انہوں نے اپنے والد مرثد سے روایت کی کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، پھر انہوں نے اسی کی مثل حدیث بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1117
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 20988، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1638، 4013، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2170، وأخرجه شرح معاني الآثار برقم: 4617، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3683، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 3641، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 8881، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2369/1، وأخرجه السنن الصغير للبيهقي برقم: 1398»