کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے (یعنی روزہ نہ رکھنے) کا بیان۔
❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَصُومُ الدَّهْرَ ؟ فَنَهَاهُ ، وَعَاوَدَهُ فَنَهَاهُ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : وَلَكِنْ صَوْمَ دَاوُدَ ; صُمْ يَوْمًا ، وَأَفْطِرْ يَوْمًا ; فَإِنَّ ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ . فَمَا زَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا حَتَّى مَاتَ .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں صومِ دہر (عمر بھر کے روزے) رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے اسے اس سے منع فرما دیا، اس شخص نے تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا مگر آپ ﷺ اسے منع ہی فرماتے رہے، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لیکن تم داؤد علیہ السلام کے روزے کی طرح روزہ رکھو؛ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو (ناغہ کرو)، کیونکہ بلاشبہ یہی داؤد علیہ السلام کا طریقہِ صوم ہے“، چنانچہ وہ شخص اپنی وفات تک اسی معمول پر کاربند رہا کہ ایک دن روزہ رکھتا اور ایک دن ناغہ کرتا تھا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1112
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1079، 1873، 1874، 1875، 1876، 1877، 1878، 1879، 3236، 3237، 3238، 4765، 4766، 4767، 5783، 5921، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1159، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 770، وأخرجه سنن النسائي برقم: 1630، 1763، 2344، 2388، 2389، 2390، 2391، 2392، 2393، 2394، 2397، 2399، 2400، 2401، 2402، 2403، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 1388، 1389، 1390، 1391، 2427، 2448، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1346، 1712، وأخرجه مسند أحمد برقم: 6441، 6455، 6470، 6480، 6509، 6721، 6725، 6736، 6750، 6793، 6823، 6824، 6834، 6837، 6875، 6882، 6912، 6984، 7047، 7058، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1752، 3486، وأخرجه فتح الباري برقم: 42، 1867، 1873، 1874، 1875، 1876، 1880، 4717، 4765، 5783، وأخرجه مسند البزار برقم: 2341، 2344، 2346، 2358، 2359، 2364، 2397، 2400، 2430، 2464، 2466، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 5957، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 197، 2024، 2105، 2106، 2109، 2110، 2121، 2126، 2152، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3871، 7411، 8827، 8992، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 4846، وأخرجه شرح السنة برقم: 1223»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، ثَنَا أَبُو هُبَيْرَةَ ، عَنْ صَدَقَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ أَفْضَلَ الصِّيَامِ صِيَامُ أَخِي دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ ، يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا .
ترجمہ
امام احمد بن منیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”بے شک سب سے افضل روزہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ نصف عمر روزے سے رہتے تھے، یعنی وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1113
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 2871»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، ثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَتَى عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالُوا : مَا أَفْطَرَ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ : لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَضَبَهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، صَوْمُ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ؟ قَالَ : أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَوْمُ يَوْمٍ ، وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ صَوْمُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمَيْنِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، صَوْمُ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ ، وَيَوْمٌ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ النُّبُوَّةُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، صَوْمُ عَرَفَةَ ، وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحَدُهُمَا يُكَفِّرُ سَنَةً ، وَالْآخَرُ يُكَفِّرُ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا .
قُلْتُ : الْمَحْفُوظُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بِطُولِهِ ، أَخْرَجَهُ مِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ مُسْلِمٌ وَأَصْحَابُ السُّنَنِ .
ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی معیت میں تھے کہ آپ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، لوگوں نے عرض کیا کہ یہ شخص فلاں فلاں وقت سے مسلسل روزے سے ہے اور کبھی ناغہ نہیں کرتا، آپ ﷺ نے (اس غلو پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا۔“ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار دیکھے تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بھلا اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟“ پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے تو (کیسا ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اس کی طاقت کس میں ہے؟“ پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پیر کے دن روزہ رکھنے کی کیا فضیلت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی و نبوت کا نزول ہوا۔“ عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عرفہ اور عاشورہ کے روزے کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ایک (عاشورہ کا روزہ) ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے اور دوسرا (عرفہ کا روزہ) گزشتہ سال اور آنے والے سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
محقق کہتے ہیں کہ اس سند کے ساتھ محفوظ روایت یہی ہے کہ اسے عبداللہ بن معبد نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے تفصیلاً بیان کیا ہے، اور امام مسلم اور اصحابِ سنن نے اسی طریق سے اسے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1114
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: الْمَحْفُوظُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بِطُولِهِ ، أَخْرَجَهُ مِنْ ذَلِكَ الْوَجْهِ مُسْلِمٌ وَأَصْحَابُ السُّنَنِ . »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 22031، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 4235، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2100، 2126، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2086، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3642، وأخرجه شرح السنة برقم: 1797، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2208، 2217»
( 42 ) حَدِيثُ فَضْلِ شُهُودِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي أَوَّلِ فَضَائِلِ الْجِهَادِ .
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ خَالِي الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا نَنْتَظِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَنَا وَفِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ حَتَّى جَلَسَ ، ثُمَّ رَأَيْنَا وَجْهَهُ يُسْفِرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ ، فَخَرَجْتُ لِأُبَيِّنَهَا لَكُمْ ، فَلَقِيتُ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ رَجُلَيْنِ يَتَلَاحَيَانِ ، أَوْ قَالَ : يَقْتَتِلَانِ ، مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ ، فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا ، فَأُنْسِيتُهَا ، وَسَأَشْدُو لَكُمْ مِنْهُمَا شَدْوًا ، أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَرَجُلٌ أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ ، عَرِيضُ النَّحْرِ ، كَأَنَّهُ فُلَانُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى ، أَوْ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ .
ترجمہ
سیدنا فلتان بن عاصم جرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم بیٹھے نبی کریم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ ﷺ تشریف لائے تو اس وقت آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار نمایاں تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ تشریف فرما ہو گئے، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا روئے انور خوشی سے چمکنے لگا ہے، تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے لیلۃ القدر اور مسیحِ ضلالت (دجال) کی حقیقت دکھا دی گئی تھی، چنانچہ میں اسی غرض سے نکلا کہ تمہیں ان کے بارے میں بتاؤں، لیکن مسجد کی دہلیز پر مجھے دو ایسے آدمی ملے جو آپس میں تکرار کر رہے تھے (یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ لڑ رہے تھے) اور ان کے ساتھ شیطان بھی ملوث تھا، پس جب میں نے ان کے درمیان بیچ بچاؤ کرایا تو مجھے اس (کی متعین تاریخ) بھلا دی گئی۔ اب میں تمہیں ان دونوں کے متعلق کچھ نشانیاں بتاتا ہوں؛ جہاں تک لیلۃ القدر کا تعلق ہے تو اسے (رمضان کے) آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور جہاں تک مسیحِ ضلالت کا معاملہ ہے تو وہ کشادہ پیشانی، ایک آنکھ سے سپاٹ اور چوڑے سینے والا شخص ہے، وہ مشابہت میں فلاں بن عبدالعزیٰ یا عبدالعزیٰ بن قطن کی طرح ہے۔“
حجرِ اسود کے پاس شبِ قدر پانے کی فضیلت کا تذکرہ ان شاء اللہ فضائلِ جہاد کے آغاز میں آئے گا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1115
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«أخرجه مسند البزار برقم: 3698، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1115 / 3، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8776، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 859»