المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ باب: شبِ قدر کا بیان۔
وَقَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، ثَنَا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ الْجُهَنِيَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، نَحْنُ غَيْبٌ قَدْ عَلِمْتَ ، وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَحْضُرَ هَذَا الشَّهْرَ ، فَأَخْبِرْنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذِهِ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، وَهِيَ لِثَمَانٍ يَبْقَيْنَ ؟ قَالَ : كَلَّا ، هَذَا الشَّهْرُ يَنْقُصُ ، وَهِيَ لِسَبْعٍ يَبْقَيْنَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کے ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم دور دراز بستیوں میں رہنے والے لوگ ہیں جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، اور ہم اس پورے مہینے (مدینہ منورہ میں) حاضر رہنے کی استطاعت نہیں رکھتے، لہٰذا آپ ہمیں شبِ قدر کے بارے میں مطلع فرما دیجیے؟ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ تئیسویں رات ہے جب کہ (مہینہ ختم ہونے میں) آٹھ راتیں باقی رہ جاتی ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسا نہیں ہے، یہ مہینہ کم بھی ہو جاتا ہے (یعنی کبھی انتیس دن کا ہوتا ہے)، اور وہ (شبِ قدر) تو وہ رات ہے جب سات راتیں باقی رہ جائیں۔“