المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ باب: شبِ قدر کا بیان۔
قَالَ أَبِي : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ : وَمَا أَعْجَبَكَ مِنْ ذَلِكَ ، كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا دُعِيَ الْأَشْيَاخُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي مَعَهُمْ ، وَقَالَ : لَا تَتَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا ، فَدَعَانَا ذَاتَ يَوْمٍ ، أَوْ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مَا قَدْ عَلِمْتُمُ : الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا . أَيُّ الْوِتْرِ هِيَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ : تَاسِعَةٌ ، سَابِعَةٌ ، خَامِسَةٌ ، ثَالِثَةٌ . فَقَالَ لِي : مَا لَكَ لَا تَتَكَلَّمُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ شِئْتَ تَكَلَّمْتُ ، فَقَالَ : مَا دَعَوْتُكَ إِلَّا لِتَتَكَلَّمَ . قَالَ : إِنَّمَا أَقُولُ بِرَأْيِي ، قَالَ : عَنْ رَأْيِكَ أَسْأَلُ . فَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ اللهَ تَعَالَى أَكْثَرَ ذِكْرَ السَّبْعِ ، فَذَكَرَ السَّمَاوَاتِ سَبْعًا ، وَالْأَرَضِينَ سَبْعًا ، حَتَّى قَالَ فِيمَا قَالَ : وَمَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ سَبْعًا ، فَقَالَ : كُلُّ مَا قَدْ قُلْتَ عَرَفْتُهُ غَيْرَ هَذَا ، مَا تَعْنِي بِقَوْلِكَ : وَمَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ سَبْعًا ؟ فَقَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : ثُمَّ شَقَقْنَا الأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا مَتَاعًا لَكُمْ ، فَالْحَدَائِقُ كُلُّ مُلْتَفٍّ حَدِيقَةٌ ، وَالْأَبُّ مَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ مِمَّا لَا يَأْكُلُ النَّاسُ . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَقُولُوا مِثْلَ مَا قَالَ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي لَمْ يَسْتَوِ سِوَى رَأْسِهِ . ثُمَّ قَالَ لِي : إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ مَعَهُمْ ، فَإِذَا دَعَوْتُكَ ، فَتَكَلَّمْ مَعَهُمْ .
قُلْتُ : رَوَى أَحْمَدُ حَدِيثَ عُمَرَ الْمَرْفُوعَ مِنْهُ حَسْبُ .میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی تو انہوں نے فرمایا: تمہیں اس پر کیا حیرت ہے؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ طریقہ تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے بڑے بزرگوں کو بلاتے تو مجھے بھی ان کے ہمراہ دعوت دیتے اور فرماتے کہ جب تک یہ لوگ کلام نہ کریں تم خاموش رہنا، پھر ایک دن یا رات انہوں نے ہمیں بلایا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے شبِ قدر کے بارے میں وہ بات فرمائی ہے جو تم جانتے ہو کہ ”اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو“، تو وہ کون سی طاق رات ہے؟ اس پر ایک شخص نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ وہ نویں، ساتویں، پانچویں یا تیسری رات ہے، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: اے ابن عباس! تم کیوں نہیں بولتے؟ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں بات کروں، انہوں نے فرمایا: میں نے تمہیں بلایا ہی اس لیے ہے کہ تم بولو، میں نے عرض کیا کہ میں اپنی رائے پیش کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا: میں تمہاری رائے ہی جاننا چاہتا ہوں، میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے کلام میں دیکھا ہے کہ اس نے سات کے عدد کا تذکرہ کثرت سے فرمایا ہے، چنانچہ اس نے سات آسمان اور سات زمینیں پیدا کیں، حتیٰ کہ اپنے کلام میں یہ بھی فرمایا کہ زمین نے سات قسم کی چیزیں اگائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری بقیہ باتیں تو میں سمجھ گیا لیکن تمہاری اس بات کا کیا مطلب ہے کہ زمین نے سات چیزیں اگائیں؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ثُمَّ شَقَقْنَا الأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَفَاكِهَةً وَأَبًّا مَتَاعًا لَكُمْ﴾ (سورہ عبس: ۲۶-۳۲) یعنی ”پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑ ڈالا، پھر ہم نے اس میں غلہ اگایا، اور انگور اور چارہ، اور زیتون اور کھجوریں، اور گھنے باغات، اور میوے اور گھاس، تمہارے فائدے کے لیے“، چنانچہ 'حدائق' سے مراد ہر وہ باغ ہے جس کے درخت گنجان ہوں اور 'اَبّ' وہ نباتیات ہیں جو زمین اگاتی ہے اور جنہیں انسان نہیں کھاتے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (صحابہ سے) فرمایا: کیا تم لوگ اس نوجوان جیسی بات کہنے سے بھی عاجز آگئے ہو جس کے سر کے بال بھی ابھی برابر نہیں ہوئے؟ پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے تمہیں ان بزرگوں کے سامنے بولنے سے منع کیا تھا لیکن اب جب میں تمہیں بلاؤں تو تم ان کے سامنے ضرور کلام کیا کرو۔
میں کہتا ہوں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس میں سے صرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث ہی روایت کی ہے۔