کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: مکمل وضو کرنے اور وضو کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ ، وَإِعْمَالُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ - تَغْسِلُ الْخَطَايَا " .
79 \ 2 - رَوَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ صَفْوَانَ .
79 \ 3 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ .
وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ وَأَبُو ضَمْرَةَ عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْعَيَّاسِ وَهُوَ بِالْيَاءِ الْمُثَنَّاةِ وَالْمُهْمَلَةِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَلَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَآخَرُ فِي السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
79 \ 2 - رَوَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ صَفْوَانَ .
79 \ 3 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيِّ ، عَنْ صَفْوَانَ .
وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ وَأَبُو ضَمْرَةَ عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْعَيَّاسِ وَهُوَ بِالْيَاءِ الْمُثَنَّاةِ وَالْمُهْمَلَةِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَلَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَآخَرُ فِي السُّنَنِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ناگوار حالات اور مشقت کے باوجود کامل طریقے سے وضو کرنا، مساجد کی جانب کثرت سے قدم بڑھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا (شوق و رغبت سے) انتظار کرنا، گناہوں کو دھو ڈالتا ہے۔“ اس روایت کو امام اسحاق، عبد بن حمید اور ابو یعلیٰ نے صفوان بن عیسیٰ کے واسطے سے نقل کیا ہے، نیز الدراوردی اور ابو ضمرہ نے اسے حارث سے، انہوں نے ابوالعیاس سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے؛ اس مفہوم کی شاہد روایت صحیح میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور سنن میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ أَنْصَارِيٌّ وَثَقَفِيٌّ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ : فَقَالَ الثَّقَفِيُّ : أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللهِ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّكَ إِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَشْفَارِ عَيْنَيْكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ يَدَيْكَ ، وَإِذَا مَسَحْتَ بِرَأْسِكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ عَنْ رَأْسِكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ رِجْلَيْكَ " الْحَدِيثَ .
( 3 ) ( 4 ) وَحَدِيثُ ثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ ص .
( 5 ) وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِحْسَانِ الْوُضُوءِ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي صَلَاةِ الضُّحَى .
( 6 ) وَحَدِيثُ : أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ طُهُورُهُ - يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي أَوَّلِ الصَّلَاةِ .
( 3 ) ( 4 ) وَحَدِيثُ ثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ ص .
( 5 ) وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِحْسَانِ الْوُضُوءِ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي صَلَاةِ الضُّحَى .
( 6 ) وَحَدِيثُ : أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ طُهُورُهُ - يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي أَوَّلِ الصَّلَاةِ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجدِ خیف میں رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس دو اشخاص آئے جن میں سے ایک انصاری اور دوسرا ثقفی تھا، پھر راوی نے مکمل واقعہ ذکر کیا کہ ثقفی شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے (وضو و نماز کی فضیلت کے متعلق) بتائیے! تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھ سے نماز کے متعلق دریافت کرنے آئے ہو، تو (جان لو کہ) جب تم اپنا چہرہ دھوتے ہو تو تمہاری آنکھوں کی پلکوں کے کناروں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب تم اپنے ہاتھ دھوتے ہو تو تمہارے ہاتھوں کے ناخنوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب تم اپنے سر کا مسح کرتے ہو تو تمہارے سر سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب تم اپنے پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے پاؤں کے ناخنوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔“ نیز ناپسندیدہ و مشکل حالات میں کامل وضو کرنے کے متعلق سیدنا ثوبان اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہما کی مروی احادیث ﴿ص﴾ [سورة ص] کی تفسیر میں مذکور ہیں، اور بہترین طریقے سے وضو کرنے کے متعلق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ان شاء اللہ تعالیٰ نمازِ چاشت کے باب میں آئے گی، جبکہ یہ حدیث کہ ”بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا محاسبہ کیا جائے گا وہ اس کی طہارت (وضو) ہے“ ان شاء اللہ تعالیٰ نماز کے ابتدائی ابواب میں بیان ہوگی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بِمَا تَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غُرًّ مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ " .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ قیامت کے دن اپنی امت کو کس علامت سے پہچانیں گے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں «غُرًّا مُحَجَّلِينَ» ”انتہائی سفید اور چمکدار“ ہوں گے۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْخَصْلَةَ الصَّالِحَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ ، فَيُصْلِحُ اللهُ تَعَالَى بِهَا عَمَلَهُ كُلَّهُ ، وَطُهُورَ الرَّجُلِ لِصَلَاتِهِ يُكَفِّرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِطُهُورِهِ ذُنُوبَهُ ، وَتَبْقَى صَلَاتُهُ نَافِلَةً " .
82 \ 2 - قَالَ الْبَزَّارُ : نَا سَهْلُ بْنُ بَحْرٍ ، نَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، نَا بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ أَبُو بَدْرٍ الضَّبِّيُّ ، نَا ثَابِتٌ - بِهِ .
82 \ 2 - قَالَ الْبَزَّارُ : نَا سَهْلُ بْنُ بَحْرٍ ، نَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، نَا بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ أَبُو بَدْرٍ الضَّبِّيُّ ، نَا ثَابِتٌ - بِهِ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جب کسی شخص میں کوئی ایک نیک عادت اور عمدہ خصلت پائی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اس کے تمام اعمال کی درستی اور اصلاح فرما دیتا ہے، اور جب آدمی اپنی نماز کے لیے باقاعدہ وضو اور پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی اس طہارت کے عوض اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور پھر اس کی ادا کردہ نماز اس کے لیے ایک اضافی اجر اور نفلی ثواب کی صورت میں باقی رہ جاتی ہے۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا مُبَارَكٌ هُوَ ابْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمَرْءِ مَثَلُ نَهَرٍ يَغْتَسِلُ مِنْهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا عَسَى أَنْ يَبْقَيَنَّ عَلَيْهِ مِنْ دَرَنِهِ ؟ يَقُومُ إِلَى الْوُضُوءِ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ فَعَلَتْهَا يَدَاهُ ، وَيَتَمَضْمَضُ فَتَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا لِسَانُهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَتْ بِهَا عَيْنَاهُ ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ سَمِعَتْهَا أُذُنَاهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْ بِهَا قَدَمَاهُ " .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انسان کی مثال اس نہر کی سی ہے جس میں وہ دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہ جائے؟ جب بندہ وضو کے لیے اٹھتا ہے اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے سرزد ہونے والے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب وہ کلی کرتا ہے تو ہر وہ گناہ جھڑ جاتا ہے جو اس کی زبان نے بولا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ہر وہ گناہ جھڑ جاتا ہے جس کی طرف اس کی آنکھوں نے دیکھا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ہر وہ گناہ جھڑ جاتا ہے جسے اس کے کانوں نے سنا ہوتا ہے، اور آخر میں جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جن کی جانب اس کے پاؤں چل کر گئے ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَفَعَهُ : " وَأَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ " .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور تم (قیامت کے دن وضو کے انوار کی بدولت) روشن و منور پیشانیوں اور چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے۔“
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، ثَنَا عَبَّادٌ الْمِنْقَرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بُنَيَّ ، عَلَيْكَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ يُحِبَّكَ حَافِظَاكَ ، وَيُزَدْ فِي عُمُرِكَ .
وَيَا أَنَسُ ، بَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ فِي الْجَنَابَةِ ; فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ مُغْتَسَلِكَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ الْمُبَالَغَةُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعَرِ ، وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ .
يَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ عَلَى وُضُوءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَأْتِيهِ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ يُعْطَى الشَّهَادَةَ " ... الْحَدِيثَ .
85 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
وَيَا أَنَسُ ، بَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ فِي الْجَنَابَةِ ; فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ مُغْتَسَلِكَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ الْمُبَالَغَةُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعَرِ ، وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ .
يَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ عَلَى وُضُوءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَأْتِيهِ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ يُعْطَى الشَّهَادَةَ " ... الْحَدِيثَ .
85 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! تم وضو کے تمام ارکان کو ان کے جملہ آداب کے ساتھ کامل طریقے سے ادا کرنے یعنی «إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ» کا التزام کرو، اس کی برکت سے تمہارے اعمال لکھنے والے دونوں نگہبان فرشتے تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہاری عمر دراز کر دی جائے گی۔ اور اے انس! جنابت کے غسل میں ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کیا کرو؛ کیونکہ جب تم اس طرح غسل کرو گے تو اپنی غسل گاہ سے اس حال میں نکلو گے کہ تم پر کوئی گناہ اور خطا باقی نہیں رہے گی۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مبالغہ کس طرح کیا جائے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ تم بالوں کی جڑوں کو اچھی طرح تر کرو اور اپنی جلد کو خوب صاف ستھرا کرو۔ اے میرے پیارے بیٹے! اگر تم اس بات کی قدرت رکھتے ہو کہ تمہارا ہر لمحہ باوضو گزرے تو ایسا ہی کرو، کیونکہ جس شخص کو موت اس حال میں آئے کہ وہ باوضو ہو، اسے شہادت کا رتبہ عطا کیا جاتا ہے۔“