المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَفَضْلِ الْوُضُوءِ باب: مکمل وضو کرنے اور وضو کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، ثَنَا عَبَّادٌ الْمِنْقَرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بُنَيَّ ، عَلَيْكَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ يُحِبَّكَ حَافِظَاكَ ، وَيُزَدْ فِي عُمُرِكَ .
وَيَا أَنَسُ ، بَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ فِي الْجَنَابَةِ ; فَإِنَّكَ تَخْرُجُ مِنْ مُغْتَسَلِكَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلَا خَطِيئَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ الْمُبَالَغَةُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعَرِ ، وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ .
يَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تَزَالَ عَلَى وُضُوءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَأْتِيهِ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ يُعْطَى الشَّهَادَةَ " ... الْحَدِيثَ .
85 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! تم وضو کے تمام ارکان کو ان کے جملہ آداب کے ساتھ کامل طریقے سے ادا کرنے یعنی «إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ» کا التزام کرو، اس کی برکت سے تمہارے اعمال لکھنے والے دونوں نگہبان فرشتے تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہاری عمر دراز کر دی جائے گی۔ اور اے انس! جنابت کے غسل میں ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کیا کرو؛ کیونکہ جب تم اس طرح غسل کرو گے تو اپنی غسل گاہ سے اس حال میں نکلو گے کہ تم پر کوئی گناہ اور خطا باقی نہیں رہے گی۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مبالغہ کس طرح کیا جائے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ کہ تم بالوں کی جڑوں کو اچھی طرح تر کرو اور اپنی جلد کو خوب صاف ستھرا کرو۔ اے میرے پیارے بیٹے! اگر تم اس بات کی قدرت رکھتے ہو کہ تمہارا ہر لمحہ باوضو گزرے تو ایسا ہی کرو، کیونکہ جس شخص کو موت اس حال میں آئے کہ وہ باوضو ہو، اسے شہادت کا رتبہ عطا کیا جاتا ہے۔“