المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَفَضْلِ الْوُضُوءِ باب: مکمل وضو کرنے اور وضو کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 81
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بِمَا تَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غُرًّ مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ " .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ قیامت کے دن اپنی امت کو کس علامت سے پہچانیں گے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں «غُرًّا مُحَجَّلِينَ» ”انتہائی سفید اور چمکدار“ ہوں گے۔“