المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَفَضْلِ الْوُضُوءِ باب: مکمل وضو کرنے اور وضو کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 82
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْخَصْلَةَ الصَّالِحَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ ، فَيُصْلِحُ اللهُ تَعَالَى بِهَا عَمَلَهُ كُلَّهُ ، وَطُهُورَ الرَّجُلِ لِصَلَاتِهِ يُكَفِّرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِطُهُورِهِ ذُنُوبَهُ ، وَتَبْقَى صَلَاتُهُ نَافِلَةً " .
82 \ 2 - قَالَ الْبَزَّارُ : نَا سَهْلُ بْنُ بَحْرٍ ، نَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، نَا بَشَّارُ بْنُ الْحَكَمِ أَبُو بَدْرٍ الضَّبِّيُّ ، نَا ثَابِتٌ - بِهِ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جب کسی شخص میں کوئی ایک نیک عادت اور عمدہ خصلت پائی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اس کے تمام اعمال کی درستی اور اصلاح فرما دیتا ہے، اور جب آدمی اپنی نماز کے لیے باقاعدہ وضو اور پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی اس طہارت کے عوض اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور پھر اس کی ادا کردہ نماز اس کے لیے ایک اضافی اجر اور نفلی ثواب کی صورت میں باقی رہ جاتی ہے۔“