المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَفَضْلِ الْوُضُوءِ باب: مکمل وضو کرنے اور وضو کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ أَنْصَارِيٌّ وَثَقَفِيٌّ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ : فَقَالَ الثَّقَفِيُّ : أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللهِ ! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّكَ إِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَشْفَارِ عَيْنَيْكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ يَدَيْكَ ، وَإِذَا مَسَحْتَ بِرَأْسِكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ عَنْ رَأْسِكَ ، وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ انْتَثَرَتِ الذُّنُوبُ مِنْ أَظْفَارِ رِجْلَيْكَ " الْحَدِيثَ .
( 3 ) ( 4 ) وَحَدِيثُ ثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ ص .
( 5 ) وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِحْسَانِ الْوُضُوءِ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي صَلَاةِ الضُّحَى .
( 6 ) وَحَدِيثُ : أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ طُهُورُهُ - يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي أَوَّلِ الصَّلَاةِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجدِ خیف میں رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس دو اشخاص آئے جن میں سے ایک انصاری اور دوسرا ثقفی تھا، پھر راوی نے مکمل واقعہ ذکر کیا کہ ثقفی شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے (وضو و نماز کی فضیلت کے متعلق) بتائیے! تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم مجھ سے نماز کے متعلق دریافت کرنے آئے ہو، تو (جان لو کہ) جب تم اپنا چہرہ دھوتے ہو تو تمہاری آنکھوں کی پلکوں کے کناروں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب تم اپنے ہاتھ دھوتے ہو تو تمہارے ہاتھوں کے ناخنوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب تم اپنے سر کا مسح کرتے ہو تو تمہارے سر سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب تم اپنے پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے پاؤں کے ناخنوں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔“ نیز ناپسندیدہ و مشکل حالات میں کامل وضو کرنے کے متعلق سیدنا ثوبان اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہما کی مروی احادیث ﴿ص﴾ [سورة ص] کی تفسیر میں مذکور ہیں، اور بہترین طریقے سے وضو کرنے کے متعلق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ان شاء اللہ تعالیٰ نمازِ چاشت کے باب میں آئے گی، جبکہ یہ حدیث کہ ”بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا محاسبہ کیا جائے گا وہ اس کی طہارت (وضو) ہے“ ان شاء اللہ تعالیٰ نماز کے ابتدائی ابواب میں بیان ہوگی۔