المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ التَّسْمِيَةِ باب: تسمیہ (یعنی اللہ تعالیٰ کا نام لینے اور بسم اللہ پڑھنے) کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 78
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ لِلْوُضُوءِ ، يَكْفِي الْإِنَاءَ ، فَيُسَمِّي اللهَ تَعَالَى ، فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ " .
حَارِثَةُ ضَعِيفٌ .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ جب وضو کے لیے اٹھتے تو (پانی لینے کے لیے) برتن کو ایک طرف جھکاتے، پھر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے (یعنی «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھتے) اور نہایت عمدگی کے ساتھ کامل وضو فرماتے۔“ (اس روایت کی سند میں موجود راوی حارثہ بن محمد ضعیف ہے)۔