❮
❯
حدیث نمبر: 83
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا مُبَارَكٌ هُوَ ابْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمَرْءِ مَثَلُ نَهَرٍ يَغْتَسِلُ مِنْهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا عَسَى أَنْ يَبْقَيَنَّ عَلَيْهِ مِنْ دَرَنِهِ ؟ يَقُومُ إِلَى الْوُضُوءِ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ فَعَلَتْهَا يَدَاهُ ، وَيَتَمَضْمَضُ فَتَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا لِسَانُهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَتْ بِهَا عَيْنَاهُ ، ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ سَمِعَتْهَا أُذُنَاهُ ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ فَيَتَنَاثَرُ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْ بِهَا قَدَمَاهُ " .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انسان کی مثال اس نہر کی سی ہے جس میں وہ دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہ جائے؟ جب بندہ وضو کے لیے اٹھتا ہے اور اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے سرزد ہونے والے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب وہ کلی کرتا ہے تو ہر وہ گناہ جھڑ جاتا ہے جو اس کی زبان نے بولا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو ہر وہ گناہ جھڑ جاتا ہے جس کی طرف اس کی آنکھوں نے دیکھا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو ہر وہ گناہ جھڑ جاتا ہے جسے اس کے کانوں نے سنا ہوتا ہے، اور آخر میں جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جن کی جانب اس کے پاؤں چل کر گئے ہوتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 83
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده واهٍ. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 1138، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 529/1»