عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حُمُوَّهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا ، وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْعَقَارِبِ الْمُوَكَّفَةِ ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حُمُوَّهَا أَرْبَعِينَ سَنَةً " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ قَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم میں ایسے سانپ ہیں ، جو بختی اونٹوں کی گردنوں کی مانند ہیں ، اُن میں سے اگر کوئی ایک ڈنگ مارے گا تو آدمی اُس کی شدت ستر سال تک محسوس کرے گا ، اور جہنم میں ایسے بچھو ہیں ، جو چادر والے بچھوؤں ( یا خچروں ) کی مانند ہیں ، ان میں سے کوئی ایک ڈنک مارے گا تو آدمی اس کی تپش چالیس سال تک محسوس کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18593
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (191/4)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُمْرُ الذُّبَابِ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً ، وَالذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مکھی کی عمر چالیس دن ہوتی ہے اور شہد کی مکھی کے علاوہ سب مکھیاں جہنم میں جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18594
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدٍ بْنَ حَازِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب مکھیاں جہنم میں جائیں گی ، صرف شہد کی مکھی کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن محمد بن حازم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18595
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11058)»
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : "الذَّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلِ " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيُّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب مکھیاں جہنم میں جائیں گی ، صرف شہد کی مکھی کا معاملہ مختلف ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18596
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3498) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13436)»
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الضُّعَفَاءِ وَفِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُحْتَجُّ بِمَا وَافَقَ فِيهِ الثِّقَاتِ ، وَيُتْرَكُ مَا انْفَرَدَ بِهِ بَعْدَ أَنِ اسْتَخَرْتُ اللَّهَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ وَافَقَهُ الثِّقَاتُ فِي أَصْلِ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب مکھیاں جہنم میں جائیں گی ، صرف شہد کی مکھی کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الضعفاء “ میں بھی کیا ہے اور کتاب ” الثقات “ میں بھی کیا ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : اس کے ذریعے ان روایات میں استدلال کیا جائے گا ، جن میں اس نے ثقہ راویوں کی موافقت کی ہو اور یہ ان روایات کے حوالے سے متروک ہو گا جن کو نقل کرنے میں یہ منفرد ہو ، میں نے یہ رائے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرنے کے بعد اختیار کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس روایت کی اصل میں ثقہ راویوں نے اس کی موافقت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18597
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10487)»
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُنَبِّهٍ - رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُنْشِئُ اللَّهُ - [ عَزَّ وَجَلَّ ] - سَحَابَةً لِأَهْلِ النَّارِ سَوْدَاءَ مُظْلِمَةً فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، أَيَّ شَيْءٍ تَطْلُبُونَ ؟ فَيَذْكُرُونَ بِهَا سَحَابَةَ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا ، الشَّرَابَ . فَيُمْطِرُهُمْ أَغْلَالًا [ تَزِيدُ فِي أَغْلَالِهِمْ ] ، وَسَلَاسِلَ فِي سَلَاسِلِهِمْ ، وَجَمْرًا يُلْهِبُ عَلَيْهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ فِيهِ ضَعْفٌ قَلِيلٌ وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
یعلیٰ بن منبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے لیے سیاہ تاریک بادل پیدا کرے گا ، تو یہ کہا: جائے گا : اے اہل جہنم ! تم کس چیز کی طلب رکھتے ہو ؟ تو وہ بادل دیکھ کر اہل جہنم کو دنیا کا بادل یاد آ جائے گا ، وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم مشروب چاہتے ہیں ، تو وہ بادل اُن پر طوقوں کی بارش نازل کرے گا ، جس کے نتیجے میں ان کے طوقوں میں اضافہ ہو جائے گا اور ان پر مزید بیڑیاں اور مزید شعلے نازل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن میں تھوڑا سا ضعف پایا جاتا ہے اور ایسا راوی بھی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18598
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ نُورَانِ عَقِيرَانِ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ قَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سورج اور چاند جہنم میں دو کچل دینے والے بیل ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18599
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4116)»