حدیث نمبر: 18587
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ حَجَرًا بِسَبْعِ خَلِفَاتٍ شُحُومِهِنَّ وَأَوْلَادِهِنَّ أُلْقِيَ فِي جَهَنَّمَ لَهَوَى سَبْعِينَ عَامًا لَا يَبْلُغُ قَعْرَهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبَانٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کوئی پتھر جو سات حاملہ اونٹنیوں ، جس میں اُن کی چربی اور ان کی اولاد کا وزن بھی شامل ہے ، اگر اتنا وزنی ( پتھر ) ہو اور اسے جہنم میں ڈالا جائے اور وہ ستر سال تک گرتا رہے ، تو بھی وہ اُس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابان رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18588
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ حَجَرًا قُذِفَ بِهِ فِي جَهَنَّمَ لَهَوَى سَبْعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِمَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدْ اخْتَلَطَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کسی پتھر کو جہنم میں پھینکا جائے تو وہ اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے ستر سال تک گرتا رہے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18589
وَعَنْ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "لَوْ أَنَّ حَجَرًا يَهْوِي فِي جَهَنَّمَ فَمَا يَصِلُ إِلَى قَعْرِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر کوئی پتھر جہنم میں گر رہا ہو تو وہ ستر سال تک بھی اُس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18590
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتًا هَالَهُ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا جِبْرِيلُ ؟ " . فَقَالَ : هَذِهِ صَخْرَةٌ هَوَتْ مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ مِنْ سَبْعِينَ عَامًا ، فَهَذَا حِينَ بَلَغَتْ قَعْرَهَا ، فَأَحَبَّ اللَّهُ أَنْ أُسْمِعَكَ صَوْتَهَا . فَمَا رُؤِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَاحِكًا مِلْءَ فِيهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آواز سنی جو ہولناک تھی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیسی آواز تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ پتھر کی آواز تھی ، جو ستر سال پہلے جہنم کے کنارے سے گرنا شروع ہوا تھا اور اس وقت وہ اُس کی تہہ تک پہنچا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پسند کیا کہ اُس کی آواز آپ کو سنا دے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، یہاں تک کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے وفات دیدی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18591
وَعَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : جِئْتُ أَبَا أُمَامَةَ فَقُلْتُ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ صَخْرَةً وَزَنَتْ عَشْرَ خَلِفَاتٍ ، قُذِفَ بِهَا مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ مَا بَلَغَتْ قَعْرَهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى غَيٍّ وَأَثَامٍ " . قِيلَ : وَمَا غَيٌّ وَأَثَامٌ ؟ قِيلَ : " بِئْرَانِ فِي جَهَنَّمَ ، يَسِيلُ فِيهِمَا صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ ، وَهُمَا اللَّذَانِ ذَكَرَهُمَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ : " أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا " وَقَوْلُهُ : " وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ قَدْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُونَ . ¤
محمد محی الدین
لقمان بن عامر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی ایسا پتھر جس کا وزن دس حاملہ اونٹنیوں جتنا ہو ، اگر اُسے جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے تو وہ ستر سال تک بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے گا ، یہاں تک کہ وہ ” غی “ اور ” اثام “ تک پہنچ جائے ۔ “ عرض کی گئی : ” غی “ اور ” اثام “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ جہنم میں موجود دو کنویں ہیں ، ان دونوں میں اہل جہنم کی پیپ بہتی ہے اور یہ دونوں وہی ہیں ، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان الفاظ میں کیا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” انہوں نے نماز کو ضائع کیا ، اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی ، تو وہ عنقریب ” غی “ سے جا ملیں گے ۔ “ ( اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جو شخص ایسا کرے گا وہ ” اثام “ تک پہنچ جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں جنہیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ غلطی کر جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں جنہیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ غلطی کر جاتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 18592
وَعَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ : أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُخْبِرُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ شَفِيرِ النَّارِ إِلَى قَعْرِهَا لَصَخْرَةٌ زِنَةُ سَبْعِ خَلِفَاتٍ بِشُحُومِهِنَّ وَلُحُومِهِنَّ وَأَوْلَادِهِنَّ ، تَهْوِي فِيهَا مَا بَيْنَ شَفِيرِ النَّارِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ قَعْرَهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
بعض اہل علم نے یہ بات بیان کی ہے : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جہنم کے کنارے سے لے کر اُس کی تہہ تک اتنا فاصلہ ہے کہ سات حاملہ اونٹنیاں ، اُن کی چربی ، اُن کے گوشت اور ان کی اولاد سمیت ، اُن کا جتنا وزن بنتا ہے ، اتنے وزن کا پتھر ، اگر جہنم میں گرنا شروع ہو ، تو وہ جہنم کے کنارے سے لے کر اس کی تہہ تک ستر سال میں پہنچے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔