وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُنَبِّهٍ - رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُنْشِئُ اللَّهُ - [ عَزَّ وَجَلَّ ] - سَحَابَةً لِأَهْلِ النَّارِ سَوْدَاءَ مُظْلِمَةً فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، أَيَّ شَيْءٍ تَطْلُبُونَ ؟ فَيَذْكُرُونَ بِهَا سَحَابَةَ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا ، الشَّرَابَ . فَيُمْطِرُهُمْ أَغْلَالًا [ تَزِيدُ فِي أَغْلَالِهِمْ ] ، وَسَلَاسِلَ فِي سَلَاسِلِهِمْ ، وَجَمْرًا يُلْهِبُ عَلَيْهِمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ فِيهِ ضَعْفٌ قَلِيلٌ وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤یعلیٰ بن منبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے لیے سیاہ تاریک بادل پیدا کرے گا ، تو یہ کہا: جائے گا : اے اہل جہنم ! تم کس چیز کی طلب رکھتے ہو ؟ تو وہ بادل دیکھ کر اہل جہنم کو دنیا کا بادل یاد آ جائے گا ، وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم مشروب چاہتے ہیں ، تو وہ بادل اُن پر طوقوں کی بارش نازل کرے گا ، جس کے نتیجے میں ان کے طوقوں میں اضافہ ہو جائے گا اور ان پر مزید بیڑیاں اور مزید شعلے نازل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن میں تھوڑا سا ضعف پایا جاتا ہے اور ایسا راوی بھی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔