وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الذُّبَابُ كُلُّهُ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الضُّعَفَاءِ وَفِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُحْتَجُّ بِمَا وَافَقَ فِيهِ الثِّقَاتِ ، وَيُتْرَكُ مَا انْفَرَدَ بِهِ بَعْدَ أَنِ اسْتَخَرْتُ اللَّهَ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ وَافَقَهُ الثِّقَاتُ فِي أَصْلِ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب مکھیاں جہنم میں جائیں گی ، صرف شہد کی مکھی کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الضعفاء “ میں بھی کیا ہے اور کتاب ” الثقات “ میں بھی کیا ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : اس کے ذریعے ان روایات میں استدلال کیا جائے گا ، جن میں اس نے ثقہ راویوں کی موافقت کی ہو اور یہ ان روایات کے حوالے سے متروک ہو گا جن کو نقل کرنے میں یہ منفرد ہو ، میں نے یہ رائے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرنے کے بعد اختیار کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس روایت کی اصل میں ثقہ راویوں نے اس کی موافقت کی ہے ۔