حدیث نمبر: N31
لا توجد أحاديث تحت هذا الباب.
محمد محی الدین
(اس باب کے تحت حدیث موجود نہیں ہے)
حدیث نمبر: 18221
عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِيمَا خَلَا مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالشَّمْسُ عَلَى قُعَيْقِعَانٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : " مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ هَذَا النَّهَارِ فِيمَا مَضَى مِنْهُ " . وَرِجَالُ الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ شَرِيكٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم سے پہلے کی امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت یوں ہے جیسے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سورج اُس وقت عصر کے بعد قیقعان ( نامی پہاڑ ) پر تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی عمروں کے مقابلے میں ، تمہاری عمریں یوں ہیں ، جس طرح گزرے ہوئے دن کے مقابلے میں باقی رہ جانے والا دن ہے ۔ “ معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور کبیر کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی شریک ہے جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سورج اُس وقت عصر کے بعد قیقعان ( نامی پہاڑ ) پر تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی عمروں کے مقابلے میں ، تمہاری عمریں یوں ہیں ، جس طرح گزرے ہوئے دن کے مقابلے میں باقی رہ جانے والا دن ہے ۔ “ معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور کبیر کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی شریک ہے جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18222
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ أَصْحَابَهُ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا شَفٌّ يَسِيرٌ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ " . وَمَا نَرَى الشَّمْسَ إِلَّا يَسِيرًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ خَلَفِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے اصحاب کو خطبہ دیا ، اس وقت سورج غروب ہونے کے قریب تھا اور تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، گزرے ہوئے کے مقابلے میں دنیا میں سے صرف اتنا حصہ باقی رہ گیا ہے جیسے گزرے ہوئے دن کے مقابلے میں تمہارا یہ دن باقی رہ گیا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : ہمیں تھوڑا سا سورج نظر آ رہا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے خلف بن موسیٰ کے حوالے سے اس کے والد سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے خلف بن موسیٰ کے حوالے سے اس کے والد سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18223
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ عِنْدَ غُرُوبِهَا عَلَى أَطْرَافِ سَعَفِ النَّخْلِ ، فَقَالَ : " مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کی طرف دیکھا جو کھجور کی شاخوں کے اوپر نظر آ رہا تھا اور غروب ہونے کے قریب تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گزرے ہوئے حصے کے مقابلے میں دنیا اتنی باقی رہ گئی ہے جتنا تمہارا یہ دن گزرے ہوئے حصے کے مقابلے میں باقی رہ گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبدالرحمن ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبدالرحمن ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔