عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ جَائِعَانِ فِي غَنَمٍ افْتَرَقَتْ أَحَدُهُمَا فِي أَوَّلِهَا ، وَالْآخَرُ فِي آخِرِهَا بِأَسْرَعَ فَسَادًا مِنِ امْرِئٍ فِي دِينِهِ يُحِبُّ شَرَفَ الدُّنْيَا وَمَالَهَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ زَنْجُوَيْهِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چیر پھاڑ کرنے والے دو بھوکے بھیڑیے ، بکریوں میں داخل ہو جائیں ، اُن میں سے ایک بکریوں کے شروع میں ہو اور دوسرا آخر میں ہو گا ، وہ اتنا فساد نہیں کریں گے ، جتنا دنیا کے شرف اور اس کے مال کی محبت ، آدمی کے دین کو خراب کرتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالملک بن زنجویہ اور عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالملک بن زنجویہ اور عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ فِي حَظِيرَةٍ يَأْكُلَانِ وَيُفْسِدَانِ بِأَضَرَّ فِيهَا مِنْ حُبِّ الشَّرَفِ ، وَحُبِّ الْمَالِ فِي دِينِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قُطْبَةُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چیر پھاڑ کرنے والے دو بھیڑیے باڑے میں گھس کر کھائیں اور فساد کریں ، تو وہ اتنا نقصان نہیں کریں گے ، جتنا شرف کی محبت اور مال کی محبت ، مسلمان شخص کے دین کا نقصان کرتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قطبہ بن العلاء ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قطبہ بن العلاء ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ فِي زَرِيبَةِ غَنَمٍ أَسْرَعُ فِيهَا فَسَادًا مِنْ طَلَبِ الْمَالِ وَالشَّرَفِ فِي دِينِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چیر پھاڑ کرنے والے دو بھیڑیے ، بکریوں کے باڑے میں گھس جائیں ، تو وہ اتنی تیزی سے فساد نہیں کرتے ، جتنی ( تیزی سے ) مال اور شرف کی طلب ، مسلمان شخص کے دین ( کو خراب کرتی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : اشْتَرَيْتُ أَنَا وَأَخِي مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ سِهَامِ خَيْبَرَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا ذِئْبَانِ عَادِيَانِ ظَلَّا فِي غَنَمٍ أَضَاعَهَا رَبُّهَا مِنْ طَلَبِ الْمُسْلِمِ الْمَالَ وَالشَّرَفَ لِدِينِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور میرے بھائی نے ، خیبر کے حصوں میں سے ، ایک سو حصے خرید لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو حملہ آور بھیڑیے ، بکریوں میں آ جائیں ، تو بکریوں کے مالکان کا اتنا نقصان نہیں ہو گا ، جتنا مسلمان کا مال یا شرف کو طلب کرنا ، اُس کے دین کا نقصان کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ بَاتَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حُبِّ ابْنِ آدَمَ الشَّرَفَ وَالْمَالَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چیر پھاڑ کرنے والے دو بھیڑیے ، بکریوں میں رات گزاریں ، تو وہ اتنا نقصان نہیں کریں گے ، جتنا شرف اور مال سے انسان کی محبت ( اس کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ جَائِعَانِ بَاتَا فِي زَرِيبَةِ غَنَمٍ أَغْفَلَهَا أَهْلُهَا ، يَفْتَرِسَانِ وَيَأْكُلَانِ بِأَسْرَعَ فَسَادًا فِيهَا مِنْ حُبِّ الْمَالِ ، وَالشَّرَفِ فِي دِينِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چیر پھاڑ کرنے والے دو بھوکے بھیڑیے ، جو بکریوں کے باڑے میں رات گزاریں ، جن بکریوں کے مالکان ان سے غافل ہوں وہ بھیڑیے چیر پھاڑ کریں اور کھائیں ، وہ اتنی تیزی سے فساد نہیں کریں گے ( جتنی تیزی کے ساتھ ) مال اور شرف کی محبت ، مسلمان شخص کے دین کو ( خراب کرتی ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔