کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نعمت والے ( یعنی آسائشوں والے ) افراد
حدیث نمبر: 17835
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ : " إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ ; فَإِنَّ عِبَادَ اللَّهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یمن بھیجنے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم آسائشوں میں رہنے سے بچنا ! کیونکہ اللہ کے بندے آسائشوں میں نہیں رہتے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17835
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (243/4)»
حدیث نمبر: 17836
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي يَأْكُلُونَ أَلْوَانَ الطَّعَامِ ، وَيَشْرَبُونَ أَلْوَانَ الشَّرَابِ ، وَيَلْبَسُونَ أَلْوَانَ الثِّيَابِ ، وَيَتَشَدَّقُونَ فِي الْكَلَامِ ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ أُمَّتِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا جُمَيْعُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَفِي الْأُخْرَى أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ مُخْتَلِطٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے ، جو مختلف اقسام کے کھانے کھائیں گے ، مختلف اقسام کے مشروبات پیئں گے مختلف اقسام کے کپڑے پہنیں گے ، اور گفتگو کرتے ہوئے چبا ، چبا کر بات کریں گے ، وہ میری اُمت کے بدترین لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک میں ، ایک راوی جمیع بن ایوب ہے اور وہ متروک ہے ، اور دوسری سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7513 و 7512)»
حدیث نمبر: 17837
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ شِرَارِ أُمَّتِي الَّذِينَ غُذُّوا بِالنَّعِيمِ ، وَنَبَتَ عَلَيْهِ أَجْسَامُهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَالْجُمْهُورُ عَلَى تَضْعِيفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے بدترین لوگوں میں وہ لوگ ہوں گے ، جنہیں نعمتیں دی گئی ہونگی اور ان ( نعمتوں ) پر ان کے جسموں کی نشوونما ہوئی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، لیکن جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3616)»
حدیث نمبر: 17838
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَهْلَ الشِّبَعِ فِي الدُّنْيَا هُمْ أَهْلُ الْجُوعِ غَدًا فِي الْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجَفْرِيُّ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ الْوَرَقَةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا میں سیر ہونے والے لوگ ، کل آخرت میں بھوکے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلیمان جفری ہے اس کے بارے میں کلام اس سے پہلے گزر چکا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17838
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11693)»
حدیث نمبر: 17839
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ عَلَى الْمُتَنَطِّعِينَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشُدَّ عَلَيْهِمْ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ عُمَرَ كَانَ أَشَدَّ أَهْلِ الْأَرْضِ خَوْفًا عَلَيْهِمْ أَوْ لَهُمْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اُس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو بنا سنوار کر بات کرنے والوں سے زیادہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرتا ہو ، اور نہ ہی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا شخص دیکھا ہے ، جو ایسے لوگوں کے لئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ سخت ہو ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ اہل زمین میں سب سے زیادہ سخت تھے ، کیونکہ انہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خوف تھا ۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17839
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5022)»
حدیث نمبر: 17840
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! بنا سنوار کر ( یعنی مصنوعی تکلف والی ) گفتگو کرنے والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17840
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10368) اخرجه احمد فى المسند (3655)»