کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو دنیا سے محبت کرتا ہے
حدیث نمبر: 17825
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دنیا سے محبت رکھتا ہے ، وہ آخرت کا نقصان کرتا ہے اور جو شخص آخرت سے محبت رکھتا ہے ، وہ دنیا کا نقصان کرتا ہے ، تو تم باقی رہ جانے والی چیز ( یعنی آخرت ) کو ، اُس ( یعنی دنیا ) پر ترجیح دو ، جو فنا ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17825
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (412/4)»
حدیث نمبر: 17826
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ : أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ : يَا سَامِعَ الْأَشْعَرِيِّينَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةُ ، وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شریح بن عبید حضرمی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے فرمایا : اے اشعر قبیلے کے سننے والو ! تم میں سے موجود افراد ، غیر موجود تک اس بات کی تبلیغ کر دیں ، میں نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا کی مٹھاس ، آخرت کی کڑواہٹ ہے ، اور دنیا کی کڑواہٹ ، آخرت کی مٹھاس ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17826
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3439) أخرجه احمد فى المسند (342/5)»
حدیث نمبر: 17827
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أُشْرِبَ قَلْبُهُ حُبَّ الدُّنْيَا الْتَاطَ مِنْهَا بِثَلَاثٍ : شَقَاءٍ لَا يَنْفَدُ عَنَاهُ ، وَحِرْصٍ لَا يَبْلُغُ غِنَاهُ ، وَأَمَلٍ لَا يَبْلُغُ مُنْتَهَاهُ . فَالدُّنْيَا طَالِبَةٌ وَمَطْلُوبَةٌ ، فَمِنْ طَلَبَ الدُّنْيَا طَلَبَتْهُ الْآخِرَةُ حَتَّى يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ فَيَأْخُذَهُ ، وَمَنْ طَلَبَ الْآخِرَةَ طَلَبَتْهُ الدُّنْيَا حَتَّى يَسْتَوْفِيَ مِنْهَا رِزْقَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : جَبْرُونَ بْنِ عِيسَى الْمُقْرِئِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَفْرِيِّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْ جَبْرُونَ ، وَأَمَّا يَحْيَى فَقَدْ ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ فِي آخِرِ تَرْجَمَةِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ فَقَالَ : فَأَمَّا سَمِيُّهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَفْرِيُّ فَمَا عَلِمْتُ بِهِ بَأْسًا ، ثُمَّ ذَكَرَ بَعْدَهُ يَحْيَى بْنَ سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيَّ ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : فِيهِ مَقَالٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ ، فَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ فَالْجَفْرِيُّ ثِقَةٌ وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْخُطْبَةِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کے دل میں دنیا کی محبت ہو ، اسے تین چیزیں لاحق ہو جاتی ہیں ، ایسی بدنصیبی جس کی مشقت ختم نہیں ہوتی ، ایسی حرص جو خوشحالی تک نہیں پہنچتی ، اور ایسی امید جس کی کوئی آخری حد نہیں ہوتی ، دنیا طالب بھی ہے اور مطلوب بھی ، جو شخص دنیا طلب کرتا ہے اسے آخرت تلاش کرتی ہے ، یہاں تک کہ موت اس کے پاس آ کر اسے گرفت میں لے لیتی ہے ، اور جو شخص آخرت طلب کرتا ہے اسے دنیا تلاش کرتی ہے ، یہاں تک کہ وہ دنیا میں سے اپنا پورا رزق وصول کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد جبرون بن عیسیٰ مغربی کے حوالے سے ، یحیی بن سلیمان جفری کے حوالے سے فضیل بن عیاض سے نقل کی ہے ، میں جبرون سے واقف نہیں ہوں ، جہاں تک یحیی کا تعلق ہے تو امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں یحیی بن سلیمان جعفی کے حالات کے آخر میں یہ بات ذکر کی ہے : جہاں تک اس کے ہم نام یحیی بن سلیمان جفری کا تعلق ہے ، تو مجھے اس کے بارے میں کسی حرج کا علم نہیں ہے ، اس کے بعد انہوں نے یحیی بن سلیمان قرشی کا ذکر کیا ہے ، ابونعیم نے کہا: ہے : اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کا ذکر ابن جوزی نے کیا ہے اگر تو یہ دو افراد ہیں ، تو پھر جفری ثقہ ہے اور یہ حدیث ، خطبہ کی شرط کے مطابق صحیح ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17827
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10328)»
حدیث نمبر: 17828
وَعَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : مَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ أَضَرَّ بِالدُّنْيَا ، وَمَنْ أَرَادَ الدُّنْيَا أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَضُرُّوا بِالْفَانِي لِلْبَاقِي . ¤ وَقَالَ : إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ كَثِيرٍ عُلَمَاؤُهُ ، قَلِيلٍ خُطَبَاؤُهُ ، كَثِيرٍ مُعْطُوهُ قَلِيلٍ سُؤَالُهُ ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ . وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ السِّحْرَ وَإِنَّ مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانًا كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ ، قَلِيلٌ عُلَمَاؤُهُ ، كَثِيرٌ سُؤَالُهُ ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَيْسٍ . ¤
محمد محی الدین
ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے ، وہ دنیا کا نقصان کرتا ہے ، اور جو شخص دنیا کا ارادہ رکھتا ہے وہ آخرت کا نقصان کرتا ہے اور میں ان لوگوں کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ باقی ( رہ جانے والی آخرت ) کے لئے ، فانی ( دنیا ) کا نقصان برداشت کر لیں ۔ “ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا : ” تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں علماء بکثرت ہیں اور خطیب کم ہیں ، دینے والے زیادہ ہیں اور مانگنے والے کم ہیں ، تم لوگ نماز طویل ادا کرو اور خطبہ مختصر دو ، بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، تمہارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں خطیب زیادہ ہوں گے ، علماء کم ہوں گے ، مانگنے والے زیادہ ہوں گے ، دینے والے کم ہوں گے “” “” ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ، قیس کے علاوہ صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8756)»