عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ بُلْجٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ ! فَقَالَ : " مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا فِي ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لِأَنْفُسِكُمْ ; فَإِنَّهَا تَحْمِلُ بِإِذْنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي إِحْدَاهِمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج پر جانے کے لیے صدقہ کے اونٹوں میں سے ہمیں کچھ اونٹ سواری کے لئے دیئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا نہیں خیال کہ ہم ان پر سواری کر پائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر ایک اونٹ کی کوہان پر شیطان موجود ہوتا ہے ، تو جب تم اس پر سوار ہونے لگو تو اس پر اللہ کا نام ذکر کر لو ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ، اور پھر اس کو اپنے آپ کے لئے ق ابوکر لو ، اللہ کے اذن کے تحت وہ سواری کے کام آئے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، جو ان دونوں میں سے ایک روایت میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، جو ان دونوں میں سے ایک روایت میں ہے ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " عَلَى كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ ، فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا فَسَمُّوا اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا تُقَصِّرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن حمزہ بن عمرو اسلمی بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر اونٹ کی پشت پر شیطان موجود ہوتا ہے ، جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ کا نام لے لو ، اور اپنی حاجت کے بارے میں کوتاہی نہ کرو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حمزہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حمزہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى ذُرْوَةِ سَنَامِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ ، فَامْتَهِنُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر اونٹ کی کوہان کے کونے پر شیطان موجود ہوتا ہے ، تو تم اس ( اونٹ ) کو ق ابومیں کر لو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن غصن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن غصن ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَاكِبٍ يَخْلُو فِي مَسِيرِهِ بِاللَّهِ وَذِكْرِهِ ، إِلَّا رَدِفَهُ مَلَكٌ ، وَلَا يَخْلُو بِشِعْرٍ وَنَحْوِهِ إِلَّا رَدِفَهُ شَيْطَانٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سفر کے دوران اللہ کو یاد کرتا ہے ، اور اس کا ذکر کرتا ہے ، تو اس کے ساتھ فرشتہ مل جاتا ہے ، اور جو شعر وغیرہ سناتا ہے ، اس کے ساتھ شیطان مل جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا رَكِبَ الرَّجُلُ الدَّابَّةَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ رَدِفَهُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ لَهُ : تَغَنَّ ، فَإِنْ لَمْ يُحْسِنْ قَالَ لَهُ : تَمَنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب آدمی سواری پر سوار ہو ، اور اللہ کا نام نہ لے ، تو شیطان اس کے پیچھے بیٹھ جاتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : تم کچھ گنگناؤ ! اگر وہ شخص یہ نہ کرے ، تو شیطان اس سے کہتا ہے : تم کوئی آرزو کرو !
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّتِهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا ، وَحَمَدَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً ، ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ فَضَحِكَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَا مِنِ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَضَحِكَ إِلَيْهِ كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا ، جب وہ سواری کھڑی ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ تکبیر کہی ، تین مرتبہ «الحمدلله» پڑھا ، تین مرتبہ سبحان اللہ پڑھا ، ایک مرتبہ «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» پڑھا ، پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے ، اور ہنس پڑے ، پھر آپ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سواری پر سوار ہو اور پھر اس طرح کرے ، جس طرح میں نے کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہو کر یوں مسکرا دیتا ہے جیسے میں تمہاری طرف دیکھ کر مسکرایا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔