مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ دَابَّةً . باب: جب آدمی سواری پر سوار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ بُلْجٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ ! فَقَالَ : " مَا مِنْ بَعِيرٍ إِلَّا فِي ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِذَا رَكِبْتُمُوهَا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لِأَنْفُسِكُمْ ; فَإِنَّهَا تَحْمِلُ بِإِذْنِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي إِحْدَاهِمَا . ¤سیدنا ابولاس خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج پر جانے کے لیے صدقہ کے اونٹوں میں سے ہمیں کچھ اونٹ سواری کے لئے دیئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا نہیں خیال کہ ہم ان پر سواری کر پائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر ایک اونٹ کی کوہان پر شیطان موجود ہوتا ہے ، تو جب تم اس پر سوار ہونے لگو تو اس پر اللہ کا نام ذکر کر لو ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ، اور پھر اس کو اپنے آپ کے لئے ق ابوکر لو ، اللہ کے اذن کے تحت وہ سواری کے کام آئے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ، جو ان دونوں میں سے ایک روایت میں ہے ۔