کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جب آدمی کا جانور ٹھوکر کھائے ، تو آدمی کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 17099
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ مَنْ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كُنْتُ رِدْفَهُ عَلَى حِمَارٍ ، فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُلْ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ; فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ، تَعَاظَمَ فِي نَفْسِهِ وَقَالَ : صَرَعْتُهُ بِقُوَّتِي ، وَإِذَا قُلْتَ : بِسْمِ اللَّهِ ، تَصَاغَرَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَكُونَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا كُلُّهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوتمیمہ ہجیمی ، اُن صاحب کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ، جو سواری پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے موجود تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا ، اُس گدھے کو ٹھوکر لگی ، تو میں نے کہا: شیطان برباد ہو جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ نہ کہو : شیطان برباد ہو جائے ، کیونکہ اگر تم یہ کہو : کہ شیطان برباد ہو جائے ، تو شیطان خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے ، اور یہ کہتا ہے ، میں نے اپنی قوت کے ذریعے اسے گرایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن اگر تم ” بسم الله “ پڑھ لو تو شیطان کا وجود اُس کے اپنے نزدیک چھوٹا ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ مکھی سے بھی چھوٹا ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17099
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (59/5)»
حدیث نمبر: 17100
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنْتَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَثَرَ بَعِيرُنَا فَقُلْتُ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُلْ : تَعِسَ الشَّيْطَانُ ; فَإِنَّهُ يَعْظُمُ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ الْبَيْتِ ، وَيَقُولُ : بِقُوَّتِي ، وَلَكِنْ قُلْ : بِسْمِ اللَّهِ ; فَإِنَّهُ يَصِيرُ مِثْلَ الذُّبَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ حُمْرَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیح بن اسامہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں سواری پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے موجود تھا ، ہمارے اونٹ کو ٹھوکر لگی ، تو میں نے کہا: شیطان برباد ہو جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ نہ کہو : شیطان برباد ہو جائے ، کیونکہ اس طرح وہ اتنا پھول جاتا ہے کہ گھر جتنا بڑا ہو جاتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : میں نے اپنی قوت کے ساتھ ایسا کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) لیکن اگر تم ” بسم اللہ “ پڑھ لو ! تو وہ مکھی جتنا ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حمران کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 17100
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (516)»