مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَكِبَ دَابَّةً . باب: جب آدمی سواری پر سوار ہو ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّتِهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا ، وَحَمَدَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا ، وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً ، ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ فَضَحِكَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَا مِنِ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّتَهُ فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَضَحِكَ إِلَيْهِ كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا ، جب وہ سواری کھڑی ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ تکبیر کہی ، تین مرتبہ «الحمدلله» پڑھا ، تین مرتبہ سبحان اللہ پڑھا ، ایک مرتبہ «لَا إِلَهَ إِلَّا الله» پڑھا ، پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے ، اور ہنس پڑے ، پھر آپ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سواری پر سوار ہو اور پھر اس طرح کرے ، جس طرح میں نے کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہو کر یوں مسکرا دیتا ہے جیسے میں تمہاری طرف دیکھ کر مسکرایا ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔